٣٧٥٣٨ - حدثنا أبو أسامة عن ابن عون عن أبي بشر عن جندب بن عبد اللَّه البجلي ثم (البصري) (١) قال: استأذنت على حذيفة ثلاث مرات فلم يأذن لي، فرجعت فإذا رسوله قد لحقني فقال: ما ردك؟ قلت: ظننت أنك نائم، قال: ما كنت لأنام حتى انظر من أين تطلع الشمس (٢).حضرت جندب بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت مانگی لیکن انہوں نے مجھے اجازت نہ دی تو میں واپس پلٹ گیا۔ پھر اچانک ان کا قاصد میرے پاس آیا۔ (مجھے لے آیا) آپ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : تمہیں کس چیز نے واپس کردیا تھا ؟ میں نے جواب دیا : میں نے یہ گمان کیا کہ آپ سوئے ہوں گے۔ انہوں نے فرمایا : میں تب نہیں سوتا جب تک میں سورج کے طلوع کی جگہ نہ دیکھ لوں۔ راوی کہتے ہیں میں نے یہ بات محمد سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا : جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سے زیادہ صحابہ رضی اللہ عنہ م یہ عمل کرتے تھے۔