٣٧٥٢١ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران قال: قال: سمعت الضحاك بن قيس (يقول) (١): إذكروا اللَّه في الرخاء يذكركم في الشدة، فإن يونس كان عبدا صالحا ذاكرا للَّه فلما وقع في بطن الحوت قال اللَّه: ﴿فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ (١٤٣) لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ﴾ [الصافات: ١٤٣ - ١٤٤]، وإن فرعون كان عبدا طاغيا ناسيا لذكر اللَّه فلما أدركه الغرق: ﴿قَالَ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (٩٠) آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ﴾ [يونس: ٩٠ - ٩١] (٢).حضرت ضحاک بن قیس فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ کو تم نرمی میں یاد کرو تو وہ سختی میں تمہیں یاد کرے گا۔ چناچہ حضرت یونس علیہ السلام خدا کو یاد کرنے والے عبد صالح تھے۔ پس جب وہ مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : { فَلَوْلا أَنَّہُ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِینَ لَلَبِثَ فِی بَطْنِہِ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ } اور فرعون ایک سرکش اور یاد خدا کو بھولنے والا بندہ تھا۔ پس جب وہ غرق ہونے لگا تو اس نے کہا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہیں، حالانکہ پہلے تو نے نافرمانی کی تھی اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا۔