٣٧٣٩٢ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عمي موسى بن يسار أن سلمان كتب إلى أبي الدرداء أن في ظل العرش إماما مقسطا، وذا مال (إذا) (١) تصدق أخفى يمينه عن شماله، ورجلا دعته امرأة (٢) ذات حسب ومنصب إلى نفسها فقال: أخاف اللَّه رب العالمين، ورجلا نشأ فكانت (صحته) (٣) وشبابه وقوته فيما يحب اللَّه ويرضاه من العمل، ورجلا كان قلبه معلقا في المساجد من حبها، ورجلا ذكر اللَّه ففاضت عيناه من الدمع من (خشية اللَّه) (٤)، ورجلين التقيا فقال أحدهما لصاحبه: إني لأحبك في اللَّه (٥).حضرت موسیٰ بن یسار بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلمان نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو خط لکھا : ” عرش کے سایہ میں عادل امام ہوگا اور وہ مالدار شخص ہوگا کہ جب صدقہ کرے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے بائیں ہاتھ سے مخفی رکھے اور وہ آدمی ہوگا جس کو خوبصورت اور حسب ونسب والی عورت اپنی طرف دعوت دے اور وہ مرد کہہ دے میں رب العالمین سے خوف کرتا ہوں اور وہ آدمی ہوگا جو اس طرح نشو و نما پائے کہ اس کی صحت، اس کا شباب اور اس کی موت اللہ کی محبت اور اس کی رضا کے اعمال میں خرچ ہو اور وہ آدمی ہوگا جس کا دل مسجد کی محبت کی وجہ سے مسجدوں میں ہی اٹکا رہے اور وہ آدمی ہوگا جو اللہ کا ذکر کرے اور خدا کے خوف کی وجہ سے اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ اور وہ دو آدمی ہوں گے جو باہم ملیں تو ان میں سے ایک دوسرے سے کہے : میں تم سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ اور خط میں یہ بھی لکھا : علم، چشموں کی طرح ہے پس اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ جس کو چاہے اس سے نفع مند کرتے ہیں۔ اور وہ حکمت جو بولی نہ جائے اس کی مثال بےروح جسم کی طرح ہے اور عمل نہ کیے جانے والے علم کی مثال اس خزانہ کی طرح ہے جس سے خرچ نہ کیا جائے اور عالم کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کے لیے راستہ میں چراغ روشن کیا جائے۔ پس لوگ اس سے روشنی حاصل کریں اور ہر ایک اس کے لیے دعا کرے۔