٣٧٣٢٠ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي (البختري) (١) قال: بينا أبو الدرداء يوقد تحت قدر له، وسلمان عنده، إذ سمع أبو الدرداء في القدر صوتا، ثم ارتفع الصوت (بنشيج) (٢) كهيئة صوت الصبي، قال: ثم ندرت القدر فانكفأت، ثم رجعت إلى مكانها (لم) (٣) ينصب منها شيء، فجعل أبو الدرداء ينادي: يا سلمان انظر إلى العجب، انظر إلى ما لم (تنظر) (٤) إلى ⦗٣٥٣⦘ مثله أنت ولا أبوك، فقال سلمان: أما إنك لو سكت لسمعت من آيات اللَّه الكبرى (٥).حضرت ابوالبختری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی ہانڈی کے نیچے آگ جل رہی تھی اور حضرت سلمان ان کے پاس تھے کہ اچانک حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ہانڈی میں سے ایک آواز سنی۔ پھر وہ آواز آنسو نکلنے کی آواز ہوگئی جیسے بچہ کی آواز ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر ہانڈی گرگئی اور اوندھی ہوگئی پھر وہ واپس اپنی جگہ آگئی لیکن اس میں سے کچھ بھی نہیں گرا تھا۔ پس حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے آواز دینی شروع کی۔ اے سلمان ! عجیب بات دیکھو ! ایسی چیز دیکھو جس کی مثل نہ تم نے دیکھی نہ تمہارے باپ نے دیکھی۔ حضرت سلمان نے فرمایا : اگر آپ خاموش رہتے تو آپ اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں میں سے سنتے۔