حدیث نمبر: 37185
٣٧١٨٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن مسعر عن حبيب عن يحيى بن جعدة قال: قال عمر: لولا أن أسير في سبيل اللَّه، (أو لأضع) (١) (جنبي) (٢) للَّه في التراب، أو أجالس قوما (يلتقطون) (٣) طيب الكلام كما (يلتقط) (٤) التمر، ⦗٣١١⦘ لأحببت أن أكون قد لحقت باللَّه (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں راہ خدا میں چلتا ہوں یا اپنی پیشانی کو اللہ کے لیے مٹی میں رکھتا ہوں یا میں ایسے لوگوں میں بیٹھتا ہوں جو عمدہ کلام کو اس طرح چن لیتے ہیں جیسے کھجور کو چنا جاتا ہے تو پھر مجھے خدا سے ملنا زیادہ محبوب ہوتا ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (لا لوضع).
(٢) في [هـ]: (جبيني).
(٣) في [أ، ب]: (يلتفضون).
(٤) في [أ، ب]: (يلتفظ).
(٥) منقطع؛ يحيى لا يروي عن عمر، أخرجه ابن المبارك في الجهاد (٢٢٢)، وأحمد في الزهد (ص ١١٧)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٥١، وابن سعد ٣/ ٢٩٠.