٣٧١٨٣ - حدثنا أبو (خالد) (١) الأحمر عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن (حبان) (٢) قال: كان بين يدي عمر صحفة فيها خبز مفتوت فيه فجاء رجل كالبدوي، قال: فقال: كل، قال: فجعل يتبع باللقمة الدسم في جانب الصحفة، فقال عمر: كأنك مقفر، فقال: واللَّه ما ذقت (سمنا) (٣) ولا (رأيت) (٤) (له) (٥) آكلا، فقال عمر: واللَّه لا أذوق سمنا حتى يحيى الناس من أول ما يحيون (٦).حضرت محمد بن یحییٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک پلیٹ تھی جس میں روٹی، گھی میں چورا کی ہوئی تھی کہ ایک دیہاتی قسم کا آدمی آگیا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کھاؤ، راوی کہتے ہیں : پس اس نے پلیٹ کے کنارے میں موجود چکناہٹ کے ساتھ لقمہ لگانا شروع کیا اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا لگتا ہے تم بھوکے ہو ؟ اس نے کہا : خدا کی قسم ! میں نے گھی کو چکھا ہے اور نہ ہی میں نے اس کو کھانے والا دیکھا ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! اس وقت تک میں گھی نہیں چکھوں گا جب تک یَحْیَا النَّاسُ مِنْ أَوَّلِ مَا یَحْیَوْنَ