حدیث نمبر: 37081
٣٧٠٨١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن موسى بن مسلم الطحان عن عمرو بن مرة عن أبي جعفر المدائني رفعه قال: يا عجبا كل العجب لمصدق بدار الخلود وهو يسعى لدار الغرور، يا عجبا كل العجب (للمختال) (١) الفخور، وإنما خلق من (نطفة) (٢) ثم يعود جيفة، وهو بين ذلك لا يدري ما يفعل به (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوجعفر مدائنی سے روایت ہے وہ اس کو مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہائے تعجب ! پورا تعجب ہے اس آدمی پر جو دارالخلود … جنت … کی تصدیق کرتا ہے لیکن محنت وہ دارالغرور … دنیا … کے لیے کرتا ہے۔ ہائے تعجب ! پورا تعجب ہے اس شخص پر جو فخر وتکبر کرتا ہے جبکہ وہ محض نطفہ کی پیداوار ہے پھر وہ مردار ہوجائے گا۔ اور اس دوران بھی وہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔

حواشی
(١) في [س]: (المختال).
(٢) في [س]: (النطفة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37081
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر تابعي متروك، اسمه عبد اللَّه بن مسور، أخرجه القضاعي في مسند الشهاب (٥٩٥)، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٩٦، وابن أبي الدنيا في ذم الدنيا (١٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37081، ترقيم محمد عوامة 35503)