مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الزهد
ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد باب: زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
٣٧٠٣١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي سفيان عن أشياخه قال: دخل سعد بن أبي وقاص على سلمان يعوده فبكى، قال: فقال له سعد: ما يبكيك أبا عبد اللَّه؟ توفي رسول اللَّه ﷺ وهو عنك راض، وتلقاه وترد عليه الحوض، فقال سلمان: أما إني لا أبكي جزعا من الموت، ولا حرصا على الدنيا، ولكن رسول اللَّه ﷺ عهد إلينا فقال: " (لتكن) (١) بلغة أحدكم مثل زاد الراكب"، قال: وحولي هذه ⦗٢٥٣⦘ (الأساود) (٢)، قال: وإنما حوله وسادة وجفنة ومطهرة، فقال سعد: يا أبا عبد اللَّه أعهد إلينا عهدا نأخذ به من بعدك، فقال: يا سعد اذكر اللَّه عند همك إذا هممت، وعند حكمك إذا حكمت، وعند يدك إذا قسمت (٣).حضرت ابو سفیان اپنے مشایخ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے وہ رونے لگے۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا : آپ کو کس بات نے رلا دیا ؟ حالانکہ رسول اللہ e نے اس حال میں رحلت فرمائی کہ وہ آپ سے راضی تھے، آپ (روز قیامت) ان سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کریں گے اور حوض کوثر پر بھی ان کے پاس تشریف لے جائیں گے۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا : میں موت سے وحشت یا دنیا سے لگاؤ کی وجہ سے نہیں رو رہا بلکہ (مجھے تو یہ بات غمگین کئے ہوئے ہے کہ رسول اللہ e نے ہمیں (یہ) وصیت فرمائی تھی : تمہارے گزر بسر کا انحصار صرف اتنی مقدار پر ہونا چاہئے جتنا ایک سوار (مسافر) کا توشہ ہوتا ہے۔ جب کہ میرے اردگرد یہ تکئے رکھے ہوئے ہیں (جو کہ مسافر کے توشہ سے زائد چیز ہے) ۔ راوی کہتے ہیں : حالانکہ ان کے پاس صرف ایک تکیہ ، ایک بڑا پیالہ اور ایک لوٹا رکھا تھا۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابو عبداللہ ! آپ بھی ہمیں کوئی وصیت فرمائیں جسے ہم آپ کے بعد اپنائے رکھیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : اے سعد ! (تین موقعوں پر) اللہ تعالیٰ کو (خصوصیت سے) یاد رکھو، (اول) اس وقت جب تمہیں کوئی غم لاحق ہو، (دوسرا) اس وقت جب تم کوئی فیصلہ کرنے لگو، اور (تیسر ١) اس وقت جب تم (شرکاء کے درمیان کوئی ایسی) تقسیم کرنے لگو (جس میں شرعا برابری لازم ہو) ۔