حدیث نمبر: 36974
٣٦٩٧٤ - حدثنا أبو أسامة عن محمد بن سليم عن ثابت البناني عن صفوان بن محرز قال: كان لداود نبي اللَّه ﷺ (١) يومٌ يتأوه (فيه) (٢)، (فيقول) (٣): أَوّه من عذاب اللَّه، أوه من عذاب اللَّه، أوه من عذاب اللَّه، (أوه من عذاب اللَّه) (٤)، (و) (٥) لا أوه، قال: (فذكرها) (٦) ذات يوم في مجلس، فغلبه البكاء حتى قام.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صفوان بن محرز کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد علیہ السلام کبھی بہت درد مند ہوجاتے تو فرمایا کرتے : میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، میں عذاب اِلٰہی (کے خیال) سے غمگین ہوا جاتا ہوں، اس کے سوا مجھے اور کوئی غم نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : ایک دن کسی مجلس میں آپ علیہ السلام کو عذاب اِلٰہی کا خیال آگیا تو آپ پر اس طرح آہ وزاری کا غلبہ ہوا کہ آپ کو وہاں سے اٹھنا پڑا۔

حواشی
(١) سقط من: [ع].
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [ع]: (يقول).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [هـ]: (وقيل).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (فذكرهما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 36974
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36974، ترقيم محمد عوامة 35398)