٣٦٩٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام بن يحيى قال: حدثنا قتادة عن صفوان بن محرز قال: كنت آخذا بيد عبد اللَّه بن عمر فأتاه رجل فقال: كيف ⦗٢١٨⦘ سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول في النجوى؟ فقال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن اللَّه يدني المؤمن يوم القيامة حتى يضع عليه كنفه، يستره من الناس، فيقول: أي عبدي تعرف ذنب كذا وكذا؟ فيقول: (أي، نعم) (١) رب، حتى إذا قرره بذنوبه ورأى في نفسه أنه قد هلك قال: فإني قد سترتها عليك في الدنيا، وقد غفرتها لك اليوم، ثم يؤتى بكتاب حسناته، وأما الكفار والمنافقون فيقول الأشهاد: ﴿هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ [هود: ١٨] " (٢).حضرت صفوان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ان کے پاس ایک شخص آیا اور دریافت کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺ سے النجویٰ کے متعلق کیا سنا ہے ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے سنا ہے کہ : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مومن کو قریب کریں گے یہاں تک کہ اس پر اپنا دست رحمت رکھ دیں گے اس کو لوگوں سے چھپا دیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے بندے ! تو فلاں فلاں گناہوں کو جانتا ہے ؟ وہ عرض کرے گا جی ہاں میرے رب پھر اللہ تعالیٰ وہی فرمائیں گے اور بندہ اقرار کرے گا یہاں تک کہ جب وہ گناہوں کا اقرار کرے گا اور اس کو یقین ہوجائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوگیا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے تجھ پر دنیا میں ساری چادر ڈال رکھی اور آج ان کو معاف کرچکا ہوں پھر اس کو حسنات کا اعمال نامہ دیا جائے گا بہر حال کفار اور منافقین پس گواہ اس کے متعلق کہیں گے کہ { ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلَی رَبِّہِمْ ، أَلاَ لَعَنَۃُ اللہِ عَلَی الظَّالِمِینَ }۔