حدیث نمبر: 36935
٣٦٩٣٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن همام بن يحيى قال: حدثنا قتادة عن أبي الصديق (الناجي) (١) عن أبي سعيد الخدري قال: لا أخبركم إلا ما سمعت من في رسول اللَّه ﷺ سمعته أذناي ووعاه قلبي: "أن عبدا قتل تسعة وتسعين نفسا ثم عرضت له التوبة، فسأل عن أعلم أهل الأرض فدُلّ على رجل، فأتاه فقال: إني قتلت تسعة وتسعين نفسا فهل لي من توبة؟ قال: بعدقتل تسعة وتسعين نفسًا؟ قال: فانتضى سيفه فقتله، فأكمل به مائة، ثم عرضت له التوبة فسأل عن أعلم أهل الأرض، فدل على رجل فأتاه فقال: إني قتلت مائة نفس فهل لي من توبة؟ ⦗٢١٧⦘ قال: ومن يحول بينك وبين التوبة، اخرج من القرية الخبيثة التي أنت فيها إلى القرية الصالحة قرية كذا وكذا، فاعبد ربك فيها، قال: فخرج يريد القرية الصالحة فعرض له أجله في الطريق، قال: فاختصم فيه ملائكة الرحمة وملائكة العذاب، فقال إبليس: أنا أولى به (إنه) (٢) لم يعصني ساعة قط، فقالت ملائكة الرحمة: إنه خرج تائبا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک شخص نے ایک کم سو بندوں کو قتل کیا پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے عالم کے متعلق دریافت کیا تو اس کو ایک عالم کے بارے میں خبر دی گئی تو وہ اس عالم کے پاس آیا اور کہا میں نے ننانوے قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ عالم نے کہا ننانوے قتلوں کے بعد بھی توبہ ؟ اس شخص نے اپنی تلوار نکال کر اس کو بھی قتل کر کے سو کی تعداد مکمل کردی۔ پھر اس کو توبہ کا خیال آیا اس نے کسی عالم کے متعلق دریافت کیا اس کو ایک عالم کا بتایا گیا تو وہ اس عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے سو قتل کیے ہیں کیا میں توبہ کرسکتا ہوں ؟ عالم نے اس سے کہا کہ اس بستی سے نکل جا جس میں تو ہے اور کسی نیکو کاروں کی بستی میں چلا جا، فلاں بستی میں چلا جا اور اپنے رب کی عبادت کر وہاں جا کر وہ شخص اس بستی میں جانے کیلئے نکلا، راستے میں اس کی موت کا وقت آگیا اس کے متعلق رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں کا مخاصمہ ہوگیا، ابلیس نے کہا کہ میں اس کا زیادہ حقدار ہوں کیوں کہ اس نے کبھی ایک لمحہ بھی میری نافرمانی نہیں کی، رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ توبہ کے ارادہ سے نکلا تھا، اللہ نے ایک فرشتہ اور بھیجا وہ اپنا جھگڑا اس کے پاس لے گئے، اس فرشتہ نے کہا کہ دونوں بستیوں کو دیکھ لو کونسی بستی اس کے زیادہ قریب ہے جو قریب ہو اس کے ساتھ اس کو ملا دو ، جب اس شخص کو اپنی موت کا علم ہوا تو اس نے اپنے آپ کو گھسیٹا اس نیکو کاروں کی بستی کی طرف، اللہ تعالیٰ نے اس کو نیکو کاروں کی بستی کے قریب کردیا اور اس نے بروں کی بستی کو دور کردیا پس اس کو نیک لوگوں کی بستی کے ساتھ ملا دیا گیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (الناحي).
(٢) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36935
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٤٧٠)، ومسلم (٢٧٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36935، ترقيم محمد عوامة 35361)