مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يفوته بعض الصلاة (مما يجهر) فيه الإمام فيقوم باب: جہری نماز میں اگر کوئی رکعت رہ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3692
٣٦٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن مفضل بن مهلهل عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يستحبون لمن سبق ببعض الصلاة في الفجر (أو) (١) المغرب أو العشاء إذا قام يقضي أن يجهر (بالقراءة) (٢) كي يعلم من لا يعلم أن (القراءة) (٣) فيما يقضى.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ جس شخص کی فجر، مغرب یا عشاء میں کچھ نماز رہ جائے تو ان کی ادا کرتے ہوئے بلند آواز سے قراءت کرے، تاکہ ناواقف کو علم ہوجائے کہ باقی ماندہ نماز میں قراءت کی جاتی ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (و).
(٢) في [أ]: (القرأن).
(٣) في [أ]: (القرأن).