مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
٣٦٨١٧ - حدثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن المنهال بن عمرو عن سعيد ابن جبير (و) (١) عن عبد اللَّه بن الحارث عن ابن عباس قال: قال نبي من الأنبياء: اللهم العبد من عبيدك يعبدك ويطيعك ويجتنب سخطك، تزوي عنه الدنيا وتعرض له البلاء، والعبد يعبد غيرك ويعمل بمعاصيك فتعرض له الدنيا وتزوي عنه البلاء، قال: فأوحى اللَّه إليه إن العباد و (البلاد) (٢) لي، كل يسبح بحمدي، فأما عبدي المؤمن فتكون له سيئات فإنما أعرض له البلاء وأزوي عنه الدنيا، (فتكون كفارة لسيئاته، وأجزيه إذا لقيني، وأما عبدي الكافر فتكون له الحسنات فأزوي عنه البلاء وأعرض له الدنيا فتكون) (٣) جزاء لحسناته وأجزيه سيئاته حين يلقاني (٤).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیوں میں سے ایک نبی نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے اللہ ! تیرے بندوں میں سے ایک بندہ تیری عبادت کرتا ہے تیری اطاعت کرتا ہے اور آپ کی ناراضگی سے بچتا ہے، آپ دنیا کو اس سے دور کر کے مصائب اس کے قریب فرما دیتے ہیں اور وہ بندہ جو تیرے غیر کی پوجا کرتا ہے اور تیرے نافرمانی والے اعمال کرتا ہے آپ دنیا اس کے قریب اور مصائب کو اس سے دور کردیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ سب بندے اور شہر میرے ہیں سب میری تسبیح کرتے ہیں بہر حال مومن بندہ، اس کے کچھ گناہ بھی ہوتے ہیں میں مصائب کو اس کو قریب کر کے دنیا کو اس سے دور کردیتا ہوں وہ اس کی خطاؤں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور جب وہ میرے پاس آئے گا میں اس کو بدلہ دوں گا اور میرا کافر بندہ اس کی کچھ نیکیاں بھی ہوتی ہیں میں بلاؤں کو اس سے دور اور دنیا کو قریب کردیتا ہوں وہ اس کی نیکیوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں اور میں اس کے گناہوں کی سزا اس کو تب دوں گا جب وہ میرے پاس آئے گا۔