مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجنة
ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها باب: جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
٣٦٧٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين عن يعلى بن مسلم عن مجاهد أن عمر بن الخطاب قرأ على المنبر: ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ [التوبة: ٧٣] فقال: وهل تدرون ما جنات عدن؟ قال: قصر في الجنة له خمسة آلاف باب، على كل باب خمسة وعشرون ألفا من الحور العين، لا يدخله إلا نبي، هنيئا لصاحب القبر -وأشار إلى قبر رسول اللَّه ﷺ وصديق هنيئا لأبي بكر، وشهيد وأنى لعمر (بالشهادة) (١)، ثم قال: والذي أخرجني من (منزلي) (٢) ⦗١٦٤⦘ (بالجثمة) (٣) إنه لقادر على أن يسوقها إلي (٤).حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر قرآن کریم کی آیت جنات عدن تلاوت فرمائی اور فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو جنات عدن کیا ہیں ؟ فرمایا وہ جنت میں ایک محل ہے جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پچیس ہزار حوریں ہیں اس میں صرف نبی داخل ہوں گے، مبارک خوشخبری ہے اس قبر والے کیلئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف اشارہ فرمایا اور اس میں صدیق داخل ہوں گے خوشخبری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے اور اس میں شہید داخل ہوں گے اور بیشک میں شہادت کا منتظر ہوں وَأَنَّی لِعُمَرَ بِالشَّہَادَۃ پھر فرمایا، قسم اس ذات کی جس نے مجھے میرے گھر سے نکالا وہ اس بات پر قادر ہے کہ اس شہادت کو میری طرف لے آئے۔