حدیث نمبر: 36739
٣٦٧٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين عن يعلى بن مسلم عن مجاهد أن عمر بن الخطاب قرأ على المنبر: ﴿جَنَّاتِ عَدْنٍ﴾ [التوبة: ٧٣] فقال: وهل تدرون ما جنات عدن؟ قال: قصر في الجنة له خمسة آلاف باب، على كل باب خمسة وعشرون ألفا من الحور العين، لا يدخله إلا نبي، هنيئا لصاحب القبر -وأشار إلى قبر رسول اللَّه ﷺ وصديق هنيئا لأبي بكر، وشهيد وأنى لعمر (بالشهادة) (١)، ثم قال: والذي أخرجني من (منزلي) (٢) ⦗١٦٤⦘ (بالجثمة) (٣) إنه لقادر على أن يسوقها إلي (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر قرآن کریم کی آیت جنات عدن تلاوت فرمائی اور فرمایا : کیا تم لوگ جانتے ہو جنات عدن کیا ہیں ؟ فرمایا وہ جنت میں ایک محل ہے جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پچیس ہزار حوریں ہیں اس میں صرف نبی داخل ہوں گے، مبارک خوشخبری ہے اس قبر والے کیلئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف اشارہ فرمایا اور اس میں صدیق داخل ہوں گے خوشخبری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے اور اس میں شہید داخل ہوں گے اور بیشک میں شہادت کا منتظر ہوں وَأَنَّی لِعُمَرَ بِالشَّہَادَۃ پھر فرمایا، قسم اس ذات کی جس نے مجھے میرے گھر سے نکالا وہ اس بات پر قادر ہے کہ اس شہادت کو میری طرف لے آئے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (شهادة).
(٢) في [هـ]: (ضري).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ]، وفي [ع، م]: (با) ثم بياض، والجثمة: موضع بمكة قرب الحجون، وأصله الأكمة من الحجارة.
(٤) منقطع؛ مجاهد لم يسمع من عمر، أخرجه الحارث كما في بغية الباحث (٩٦٣)، وابن عساكر ٤٤/ ٤٠٥، والفاكهي في أخبار مكة (٢٥١٦).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36739
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36739، ترقيم محمد عوامة 35166)