حدیث نمبر: 36717
٣٦٧١٧ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني عنبسة بن سعيد قاضي الري عن جعفر (بن) (١) أبي المغيرة عن (شمر) (٢) بن عطية عن كعب قال: إن للَّه ملكا (من يوم خلق) (٣) يصوغ حلي أهل الجنة (٤) إلى أن تقوم الساعة، ولو أن (قلبًا) (٥) من حلي أهل الجنة أخرج لذهب بضوء شعاع الشمس، فلا تسألوا بعدها عن حلي أهل الجنة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت کعب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا فرمایا ہے، جس دن سے اس کو پیدا کیا گیا ہے وہ جنتیوں کیلئے زیور تیا رکر رہا ہے اور قیامت تک تیار کرتا رہے گا، اگر ان زیورات میں سے ایک کنگن بھی دنیا پر ظاہر کردیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑجائے، پس اس کے بعد جنت کے زیورات کے متعلق سوال نہ کرنا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، هـ]: (سمرة).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) زيادة في [هـ]: (من يوم خلق).
(٥) في [ب، ط، هـ]: (جليًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36717
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36717، ترقيم محمد عوامة 35143)