حدیث نمبر: 36716
٣٦٧١٦ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن عبد اللَّه بن أبي الهذيل أن موسى -أو غيره- من الأنبياء قال: يا رب كيف يكون هذا منك؟ أولياؤك في الأرض (خائفون) (١) يقتلون، ويطلبون (ويقطعون) (٢)، وأعداؤك يأكلون ما شاؤوا ويشربون ما شاؤوا -ونحو هذا- فقال: انطلقوا بعبدي إلى الجنة فينظر ما لم يُر مثلُه ⦗١٥٥⦘ قط إلى أكواب موضوعة ونمارق مصفوفة وزرابي مبثوثة، وإلى الحور العين وإلى الثمار وإلى الخدم كأنهم لؤلؤ مكنون، فقال: ما ضر أوليائي ما أصابهم في الدنيا إذا كان مصيرهم إلى هذا، ثم قال: انطلقوا بعبدي (٣)، فانطلق به إلى النار فيخرج منها عنق فصعق العبد، ثم أفاق (فقال) (٤): ما نفع أعدائي ما أعطيتهم في الدنيا إذا كان مصيرهم إلى هذا، قال: لا شيء.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بن ابو الھذیل سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا اے اللہ ! یہ معاملہ آپ کی طرف سے کیسا عجیب ہوتا ہے ؟ آپ کے دوست (نیک لوگ) دنیا میں خوفزدہ رہتے ہیں ان کو قتل کیا جاتا ہے، ان کو پکڑا جاتا ہے پھر ان کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں اور آپ کے دشمن جو چاہتے ہیں کھاتے ہیں اور جو چاہتے ہیں پیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : میرے بندے کو جنت کی سیر کر واؤ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہاں وہ نعمتیں دیکھیں جو اس سے پہلے نہ دیکھی تھیں، رکھے ہوئے پیالے، سیدھے رکھے ہوئے تکیے اور بکھرے ہوئے کپڑے، اور حورعین اور مختلف پھل اور خدام جیسے کہ وہ چھپے ہوئے موتی ہوں ان سب کی سیر کروائی گئی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : جب میرے دوستوں کا ٹھکانا یہ ہو تو دنیا میں جو بھی تکالیف انہیں پہنچے ان کو نقصان ہے ؟ پھر ارشاد فرمایا : میرے بندے کو جہنم کی سیر کر واؤ، چناچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جہنم لے جایا گیا، اس میں ایک جماعت دیکھی، ان کو دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام بےہوش ہوگئے، پھر آپ کو کچھ افاقہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرے دشمنوں کا ٹھکانہ یہ ہو تو پھر دنیا میں ان کو جو بھی نعمتیں ملیں ان کو فائدہ ہے ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کچھ بھی نہیں۔

حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (جائعون).
(٢) في [هـ]: (فلا يعطون)، وفي [جـ]: (ويعطون)، وسقط من: [أ، ب].
(٣) في [هـ]: زيادة (هذا).
(٤) في [ب]: (ثم قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36716
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36716، ترقيم محمد عوامة 35142)