مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من قال: لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب، باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور جو حضرات فرماتے ہیں کہ سورۃ الفاتحہ کے ساتھ کسی اور جگہ سے پڑھنا بھی ضروری ہے
حدیث نمبر: 3668
٣٦٦٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي العالية البرّاء قال: قلت لابن عمر: أفي كل ركعة أقرأ؟ فقال: إني لأستحي من رب هذا البيت أن لا أقرأ في كل ركعة بفاتحة الكتاب، وما تيسر. وسألت ابن عباس فقال: هو إمامك، فإن شئت فأقل منه، وإن شئت فأكثر (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ براء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ کیا میں ہر رکعت میں قراءت کروں ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے اس گھر کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں ہر رکعت میں سورة الفاتحہ اور اس کے بعد جو آسان لگے اس کی تلاوت نہ کروں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ تمہاری مرضی ہے، چاہو تو اس سے کم تلاوت کرو اور چاہو تو اس سے زیادہ کرلو۔