حدیث نمبر: 36679
٣٦٦٧٩ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني سعيد بن عبد الرحمن قال: حدثنا أبو حازم عن سهل بن سعد قال: قال رسول اللَّه ﷺ وذكر الجنة فقال: "فيها ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا (١) على قلب بشر (خطر) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں میں نے اپنے نیک بندوں کیلئے ایسی نعمتیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا اگر تم چاہو تو قرآن کی یہ آیت پڑھ کر دیکھ لو۔ { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } اور جنت میں ایک درخت ہے ایک (تیز) سوار سو سال تک اس کے سایہ میں دوڑتا رہے تو بھی اس کو ختم نہیں کرسکتا، اگر چاہو تو یہ آیت پڑھ لو { وَظِلٍّ مَمْدُودٍ } اور جنت میں ایک کوڑے کی بقدر کی جگہ بھی دنیا وما فیھا سے بہتر ہے، اگر چاہو یہ آیت پڑھ لو، { فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ }

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (خطر).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36679
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سعيد صدوق، أخرجه مسلم (٢٨٢٥)، وأحمد وابنه (٢٢٨٢٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36679، ترقيم محمد عوامة 35106)