٣٦١٤٧ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: أول من أظهر الإسلام سبعة رسول اللَّه ﷺ وأبو بكر وبلال وخباب وصهيب وعمار وسمية أم عمار، فأما رسول اللَّه ﷺ فمنعه عمه، وأما أبو بكر فمنعه قومه، و (أُخذ) (١) الآخرون فألبسوا أدراع الحديد وصهروهم في الشمس حتى بلغ الجهد منهم كل مبلغ فأعطوهم ما سألوا، فجاء إلى كل رجل منهم قومه بأنطاع الأدم فيها الماء فألقوهم فيها ثم (حملوه) (٢) بجوانبه إلا بلالا، فلما كان العشي جاء أبو جهل فجعل يشتم سمية ويرفث ثم طعنها (في قبلها) (٣) فهي أول شهيد استشهد في الإسلام إلا بلالا، فإنه هانت عليه نفسه في اللَّه حتى (ملوا) (٤) فجعلوا في عنقه حبلا ثم أمروا صبيانهم (فاشتدوا) (٥) به (بين) (٦) أخشبي مكة وجعل يقول: أحد أحد (٧).حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام لانے والے سات خوش نصیب ہیں، رسول اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکر، حضرت بلال، حضرت خباب، حضرت صہیب، حضرت عمار اور حضرت عمار کی والدہ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہ م حضور اکرم ﷺ کو تکلیف دینے سے ان کے چچا نے روکا ہوا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تکلیف دینے سے ان کی قوم والوں نے باقی تمام مسلمانوں کو کفار پکڑ لیتے اور لوہے کے طوق ان کے گلوں میں ڈال کر ان کو سورج کی تپش میں جھلسنے کے لئے ڈال دیتے یہاں تک کہ ان لوگوں نے اپنی پوری کوشش کرلی۔ پھر جو انہوں نے مانگا وہ ان کو دیا گیا پھر ان میں سے ہر ایک کے پاس ان کی قوم کے لوگ آئے چمڑے کا تھیلا لے کر جس میں پانی تھا، انہوں نے اس میں ڈال دیا اور پھر ان کے پہلوں سے پکڑ کر اٹھایا سوائے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے جب شام ہوئی تو ابو جہل آیا اور اس نے حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کو گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا شروع کردیا اور ان کی شرم گاہ میں نیزہ مار کر شہید کردیا، یہ پہلی شہیدہ تھیں جو اسلام میں شہید ہوئیں سوائے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ان کو اللہ کی راہ میں خوب تکلیف (تذلیل) دی گئی یہاں تک کہ کفار بھی تنگ آ کر اکتا گئے، انہوں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی گردن میں رسی ڈال دی اور پھر بچوں کو حکم دیا تو وہ ان کو لے کر مکہ کی گلیوں میں گھماتے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہاحد احد فرماتے جاتے۔