٣٦١٠٦ - حدثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي إسحاق قال: لما أسلم عكرمة ابن أبي جهل أتى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه، واللَّه لا أترك مقامًا قمته لأصد به عن سبيل اللَّه إلا قمت (مثله) (١) في سبيل اللَّه، (ولا أترك نفقة أنفقتها لأصد بها عن سبيل اللَّه إلا أنفقت مثلها في سبيل اللَّه) (٢)، فلما كان يوم اليرموك نزل فترجل فقاتل قتالا شديدا فقتل، فوجد به بضع وسبعون من بين طعنة وضربة ورمية (٣).حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ جب عکرمہ بن ابوجہل نے اسلام قبول کیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا میں وہ ہر طریقہ اللہ کے راستے میں اختیار کروں گا اور جتنا مال میں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لئے خرچ کیا تھا اتنا ہی مال میں اللہ کے راستے میں خرچ کروں گا۔ جنگ یرموک میں حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سواری سے اتر کر پیدل لڑے اور زبردست لڑائی کی، پھر وہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم پر نیزوں، تلواروں اور تیروں کے ستر سے زیادہ نشانات تھے۔