٣٦١٠٤ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن الشعبي عن سويد بن غفلة قال: شهدنا اليرموك فاستقبلنا عمر وعلينا الديباج والحرير، فأمر فرمينا بالحجارة قال: فقلنا ما بلغه عنا؟ قال: فنزعناه وقلنا كره زينا، فلما استقبلنا رحب بنا ثم قال: إنكم جئتموني في زي أهل الشرك، إن اللَّه لم يرض لمن قبلكم الديباج والحرير (١).حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہم یرموک کی لڑائی سے واپس آئے تو حضرت عمر ہمارے استقبال کے لئے آئے۔ اس وقت ہمارے جسم پر ریشم کا لباس تھا۔ حضرت عمر نے لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں پتھر مارے جائیں۔ ہم نے کہا کہ انہیں ہمارے بارے میں نہ جانے کیا خبر ملی ہے ؟ پھر ہم نے ریشم کے کپڑے اتار دیئے اور کہا کہ انہیں ہمارا یہ حلیہ ناپسند آیا ہے۔ پھر جب ہم گئے تو انہوں نے ہمارا استقبال کیا اور فرمایا کہ پہلے تم مشرکین کے حلیے میں آئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں کے لئے بھی ریشم کو پسند نہیں کیا ہے۔