٣٦١٠٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك قال: سمعت عياضا الأشعري قال: شهدت اليرموك وعلينا خمسة أمراء: أبو عبيدة بن الجراح، ويزيد بن أبي سفيان، وابن (حسنة) (١)، وخالد بن الوليد، وعياض، (وليس) (٢) عياض هذا بالذي حدث عنه سماك، قال: وقال عمر: إذا كان قتال فعليكم أبو عبيدة، قال: فكتبنا إليه أنه قد (جاش) (٣) إلينا الموت، واستمددناه، قال: فكتب إلينا أنه قد (جاءني) (٤) كتابكم (تستمدوني) (٥) وإني أدلكم على من هو أعز نصرًا (وأحضر) (٦) جندا فاستنصروه، وإن محمدا ﷺ (٧) كان نصر يوم بدر في أقل من (عددكم) (٨)، فإذا أتاكم كتابي هذا فقاتلوهم ولا تراجعوني، قال: فقاتلناهم فهزمناهم وقتلناهم في أربعة فراسخ قال: وأصبنا أموالًا، قال: ⦗٧١⦘ (فتشاورنا) (٩) فأشار علينا عياض أن نعطي (١٠) كل رأس عشرة، قال: وقال أبو عبيدة: من يراهنني؟ قال: فقال شاب: أنا إن لم تغضب، قال: فسبقه، قال: فرأيت عقيصتي أبي عبيدة تنقزان وهو خلفه على فرس (عربي) (١١) (١٢).حضرت عیاض اشعری کہتے ہیں کہ میں جنگ یرموک میں شریک تھا، اس میں ہمارے پانچ امیر تھے : حضرت ابو عبیدہ بن جراح، حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت ابن حسنہ، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض۔ اور حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ جب لڑائی ہو تو حضرت ابو عبیدہ کی اطاعت کو لازم پکڑنا۔ پھر اس لڑائی میں ہم شدید خطرات میں گھر گئے توہم نے حضرت عمر سے مدد طلب کی۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ تمہارا خط مجھے ملا ہے جس میں تم نے مجھ سے مددمانگی ہے۔ میں تمہیں اس اللہ سے مدد مانگنے کو کہتا ہوں جس کی مدد زیادہ غالب ہے اور جس کا لشکر زیادہ مضبوط ہے اور حضور ﷺ نے غزوہ بدر میں تم سے کم تعداد کے ساتھ دشمن کو شکست دی تھی، جب میرا یہ خط تمہارے پاس پہنچ جائے تو میری طرف رجوع نہ کرنا۔ اس خط کے ملنے کے بعد ہم نے خوب لڑائی کی اور دشمن کو شکست دے دی۔ ہم نے چار فرسخ تک ان سے لڑائی کی اور بہت سا مال حاصل کیا۔ پھر ہم نے آپس میں مال کی تقسیم کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت عیاض نے مشورہ دیا کہ ہر ایک کو دس دیئے جائیں۔ پھر حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ مجھ سے کون دوڑ لگائے گا۔ ایک نوجوان نے کہا کہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں آپ کے ساتھ دوڑ لگاتا ہوں۔ پھر وہ نوجوان آگے نکل گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابو عبیدہ اپنے عربی گھوڑے پر اس نوجوان کے پیچھے تھے اور ان کے بالوں کی مینڈھیاں اڑ رہی تھیں۔