٣٦٠٩٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (العلاء) (١) بن المنهال قال: حدثنا عاصم ابن كليب الجرمي قال: حدثني أبي قال: حاصرنا (توج) (٢) وعلينا رجل من بني سليم يقال: له مجاشع بن مسعود، قال: فلما فتحناها، قال: وعلى قميص (خلق) (٣) قال: فانطلقت إلى قتيل من القتلى (الذين) (٤) قتلنا (من العجم) (٥)، قال: فأخذت قميص بعض أولئك القتلى، قال: وعليهم الدماء، قال: فغسلته بين أحجار ودلكته حتى أنقيته ولبسته ودخلت القرية، فأخذت إبرة وخيوطا (فخطت) (٦) قميصي، فقام مجاشع فقال: يا أيها الناس لا تغلوا شيئًا، من غل شيئا جاء به يوم القيامة ولو كان مخيطا، قال: فانطلقت إلى ذلك القميص فنزعته وانطلقت إلى قميصي فجعلت أفتقه، حتى واللَّه يا بني جعلت أخرق قميصي توقيا على الخيط أن (ينقطع) (٧) فانطلقت بالقميص والإبرة (والخيوط) (٨) الذي كنت أخذته من المقاسم فألقيته فيها، ثم ما ذهبت من الدنيا حتى رأيتهم يغلون (الأوساق) (٩)، فإذا قلت: أي شيء؟ قالوا: نصيبنا من الفيء أكثر من هذا (١٠).حضرت کلیب جرمی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے توج نامی علاقے کا محاصرہ کیا تو ہماری قیادت بنوسلیم کے مجاشع بن مسعود کے ہاتھ تھی۔ جب ہم نے توج کو فتح کیا تو اس وقت میرے بدن پر ایک پرانی قمیص تھی۔ میں ایک عجمی مقتول کے پاس گیا اور میں نے اس کی قمیص اتاری، اسے دھویا اور صاف کرکے پہن کے بستی میں داخل ہوا۔ بستی میں سے میں نے ایک سوئی اور دھاگا لیا اور اپنی قمیص کو سی لیا۔ اس کے بعد حضرت مجاشع نے مجاہدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے لوگو ! کسی قسم کی خیانت نہ کرو، جس نے خیانت کی اسے قیامت کے دن خیانت کا حساب چکانا ہوگا خواہ وہ ایک سوئی ہی کیوں نہ ہو۔ پھر میں نے اس قمیص کو اتارا اور اپنی قمیص کے اس حصہ کو دوبارہ پھاڑ دیا جو اس دھاگے سے سیا تھا۔ پھر میں نے وہ سوئی اور دھاگا وہیں رکھ دیئے جہاں سے اٹھائے تھے۔ پھر میں نے اپنی زندگی میں وہ زمانہ دیکھاجب لوگ وسق کے وسق میں خیانت کرتے تھے، اگر ان سے کہا جائے کہ یہ کیا کررہے ہو تو کہتے ہیں کہ غنیمت میں ہمارا حصہ اس سے زیادہ ہے۔