٣٦٠٩١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثني عطاء بن السائب عن أبي زرعة بن (عمرو) (١) (بن) (٢) جرير أن رجلا كان ذا صوت ونكاية على العدو مع أبي موسى، فغنموا مغنما فأعطاه أبو موسى نصيبه ولم يوفه، فأبى أن يأخذه إلا (جميعا) (٣) فضربه عشرين سوطا وحلقه، فجمع شعره (وذهب) (٤) إلى عمر فدخل عليه فقال جرير: وأنا أقرب الناس منه، فأخرج شعره من (ضبنه) (٥) فضرب (بها) (٦) صدر عمر فقال: أما واللَّه لولاه، فقال عمر: صدق لولا النار، فقال: مالك؟ فقال: كنت رجلا ذا صوت ونكاية على العدو، فغنمنا مغنمًا، وأخبره بالأمر، وقال: حلق رأسي وجلدني عشرين سوطا يرى أنه لا يقتص منه، فقال عمر: لأن يكون الناس كلهم على مثل صرامة هذا أحب من جميع (ما أتى) (٧) (علي) (٨)، قال: فكتب عمر إلى أبي موسى: سلام (عليكم) (٩)، أما بعد: فإن فلان بن فلان أخبرني بكذا وكذا، وإني أقسم عليك إن كنت فعلت به ما فعلت في ملأ من الناس لما جلست في ملأ منهم فاقتص منك، وإن كنت فعلت به ما فعلت في ⦗٦٧⦘ خلاء فاقعد له في خلاء فيقتص منك، فقال له الناس: اعف عنه، فقال: لا واللَّه لا أدعه لأحد من الناس، فلما (دفع) (١٠) إليه الكتاب قعد للقصاص فرفع رأسه إلى السماء وقال: قد عفوت عنه (١١).حضرت ابو زرعہ بن عمرو بن جریر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کے ساتھیوں میں ایک آدمی بہت بہادر اور دلیر تھا۔ جب مسلمانوں کو مال غنیمت حاصل ہوا تو حضرت ابو موسیٰ نے اسے اس کا حصہ پورا نہ دیا۔ اس نے کم حصہ لینے سے انکار کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے بیس کوڑے لگوائے اور اس کا سر مونڈ دیا۔ اس نے اپنے بال جمع کئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بال ان کے سینے پر مارے اور کہا کہ خدا کی قسم ! اگر وہ نہ ہوتی ! حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ سچ کہتا ہے کہ اگر جہنم نہ ہوتی۔ پھر حضرت عمر نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ساری بات بتائی اور کہا کہ حضرت ابو موسیٰ کا خیال ہے کہ ان سے اس کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان برابری کرنا میرے نزدیک مال غنیمت کے حصول سے بہتر ہے۔ پھر حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا جس میں سلام کے بعد فرمایا کہ فلاں بن فلاں نے مجھے یہ خبر دی ہے اور میں تمہیں قسم دے کر کہتاہوں کہ اگر تم نے اس کے ساتھ یہ زیادتی لوگوں کے سامنے کی ہے تو لوگوں کے سامنے بیٹھ کر اسے بدلہ دو اور اگر تنہائی میں کی ہے تو تنہائی میں اسے بدلہ دو ۔ لوگوں نے حضرت عمر سے درخواست کی کہ انہیں معاف فرمادیجئے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں انصاف کو کسی کے لئے پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ جب خط انہیں ملا تو وہ بدلے کے لئے بیٹھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا لیکن اس آدمی نے کہا کہ میں نے آپ کو معاف کردیا۔