٣٦٠٨٥ - حدثنا مروان بن معاوية عن حميد عن (حبيب أبي) (١) يحيى أن خالد ابن زيد وكانت عينه أصيبت بالسوس قال: حاصرنا مدينتها فلقينا (جهدًا) (٢) وأمير الجيش أبو موسى، وأخذ الدهقان عهده وعهد من معه، فقال أبو موسى: اعزلهم، (فجعل يعزلهم) (٣)، (وجعل) (٤) أبو موسي يقول لأصحابه: إني لأرجو أن يخدعه اللَّه عن نفسه، فعزلهم وأبقى عدو اللَّه، فأمر (به) (٥) أبو موسى (ففادى) (٦) وبذل له مالًا كثيرًا، فأبى وضرب عنقه (٧).حضرت حبیب بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ سوس کی لڑائی میں حضرت خالد بن زید کی آنکھ شہید ہوگئی تھی۔ ہم نے سوس کا محاصرہ کیا، اس دوران ہمیں بہت مشقت اٹھانا پڑی۔ لشکر کے امیر حضرت ابو موسیٰ تھے۔ وہاں کے ایک آدمی نے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا امان حاصل کیا تو حضرت ابو موسیٰ نے اس سے فرمایا کہ دشمنوں سے الگ ہوجا۔ اس نے اپنے اہل و عیال کو محفوظ مقام پر پہنچانا شروع کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ دھوکہ دے۔ چناچہ وہ اپنے اہل کو محفوظ کرکے پھر لڑائی کے لئے دشمنوں کے ساتھ ہولیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے حکم دیا کہ اسے گرفتار کرکے لایا جائے، وہ لایا گیا اور اس نے اپنی جان کے بدلے بہت سا مال دینے کی فرمائش کی، لیکن حضرت ابو موسیٰ نے انکار کردیا اور اس کی گردن اڑا دی۔