حدیث نمبر: 36084
٣٦٠٨٤ - حدثنا (شاذان قال: حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن أبي عمران (الجوني) (٢) عن أنس أنهم لما فتحوا تستر قال: (وجدنا) (٣) رجلا أنفه ذراع في التابوت، كانوا يستظهرون (و) (٤) (يستمطرون) (٥) به، فكتب أبو موسى إلى عمر ابن الخطاب بذلك، فكتب عمر: إن هذا نبي من الأنبياء والنار لا تأكل الأنبياء، (و) (٦) الأرض لا ⦗٦٣⦘ تأكل الأنبياء، فكتب (إليه) (٧) أن انظر أنت و (رجل من) (٨) أصحابك -يعني أصحاب أبي موسى- فادفنوه في مكان لا يعلمه أحد غيركما، قال: فذهبت أنا وأبو موسى فدفناه (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے تستر کو فتح کیا تو ہم نے دیکھا کہ وہاں ایک آدمی کی قبر ہے جس کا جسم سلامت ہے۔ وہ لوگ اس کے ذریعے بارش طلب کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا تو حضرت عمر نے جواب میں فرمایا کہ یہ کسی نبی کی قبر ہے کیونکہ زمین انبیاء کے جسم کو نہیں کھاتی۔ اور انہیں کسی ایسی جگہ دفن کردو جہاں تمہارے اور تمہارے ایک ساتھی کے سوا کوئی نہ جانتا ہو۔ چناچہ میں اور حضرت ابوموسیٰ ان کی میت کو لے کر گئے اور اسے دفن کردیا۔

حواشی
(١) سقط من: [جـ، هـ].
(٢) في [جـ]: (الجون).
(٣) في [ط، هـ]: (فوجد).
(٤) في [أ، ب]: (أو)، وفي [جـ]: (لو).
(٥) في [ط، هـ]: (يستطرون).
(٦) في [جـ]: (أو).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) سقط من: [أ، ب، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36084
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36084، ترقيم محمد عوامة 34511)