حدیث نمبر: 36068
٣٦٠٦٨ - حدثنا شريك عن ابن الأصبهاني عن الشيباني عن الشعبي عن مالك ابن صُحَار قال: غزونا بلنجر فجرح أخي فحملته خلفي فرآني حذيفة فقال: من هذا؟ (فقلت) (١): أخي جرح (نرجع) (٢) (قابلا) (٣) نفتحها إن شاء اللَّه، فقال (حذيفة) (٤): لا واللَّه لا يفتحها (٥) علي أبدا ولا القسطنطينية ولا الديلم (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مالک بن صحار فرماتے ہیں کہ ہم نے بلنجر کی لڑائی میں حصہ لیا۔ اس میں میرا بھائی زخمی ہوگیا۔ میں نے اسے اپنی کمر پر سوار کیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ میں نے کہا کہ میرا بھائی ہے، زخمی ہوگیا ہے۔ ہم اگلے سال اسے فتح کرنے کے لئے آئیں گے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھ پر فتح نہیں فرمائے گا نہ قسطنطینیہ کو اور نہ دیلم کو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (قلت).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (فرجع).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (قاتل).
(٤) في [جـ]: (حليفه).
(٥) في [جـ]: زيادة (اللَّه).
(٦) مجهول؛ لجهالة مالك بن صحار.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36068
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36068، ترقيم محمد عوامة 34496)