مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند باب: سیدنا نعمان بن مقرن کی نہاوند کی جانب روانگی کا بیان
٣٦٠٦١ - حدثنا عفان قال: ثنا أبو عوانة قال: حدثني داود بن عبد اللَّه الأودي عن حميد بن عبد الرحمن الحميري أن رجلا كان يقال له: (حممة) (١) من أصحاب رسول اللَّه ﷺ، خرج إلى أصبهان غازيا في خلافة عمر فقال: اللهم إن (حممة) (٢) يزعم أنه يحب لقاءك فإن كان حممة صادقا فاعزم له بصدقه، وإن كان كاذبا فاعزم له عليه وإن كره، اللهم لا (ترد) (٣) (حممة) (٤) من سفره هذا، قال: فأخذه الموت فمات بأصهبان قال: فقام أبو موسى فقال: يا أيها الناس، ألا إنا (واللَّه) (٥) ما سمعنا فيما سمعنا من نبيكم ﷺ وما بلغ علمنا إلا أن ⦗٤٨⦘ (حممة) (٦) شهيد (٧).حضرت حمید بن عبد الرحمن حمیری فرماتے ہیں کہ ایک صحابی جن کا نام ” حممہ “ تھا۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اصبہان کی طرف جہاد کی نیت سے نکلے۔ انہوں نے اس غزوہ میں دعا کی کہ اے اللہ ! حممہ سمجھتا ہے کہ وہ تجھ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اگر حممہ سچا ہے تو اس کے سچ کو صادر فرمادے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو بھی اس کا فیصلہ فرمادے خواہ وہ اس کو ناپسند ہی کیوں نہ کرے۔ اے اللہ ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ بھیج۔ راوی کہتے ہیں کہ بعد ازاں اصبہان میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں کہا کہ اے لوگو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور ہمارے علم کے مطابق حممہ شہید ہیں۔