مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في توجيه النعمان بن مقرن إلى نهاوند باب: سیدنا نعمان بن مقرن کی نہاوند کی جانب روانگی کا بیان
٣٦٠٥٢ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا إسماعيل عن قيس بن أبي حازم عن مُدْرِك ابن عوف الأَحْمَسي قال: بينا أنا عند عمر إذ أتاه رسول النعمان بن مقرن، فسأله عمر عن الناس، قال: فذكروا عند عمر من أصيب يوم نهاوند، فقالوا: قتل فلان وفلان وآخرون لا نعرفهم، فقال عمر: لكن اللَّه يعرفهم، قالوا: ورجل (شرى) (١) نفسه -يعنون عوف بن أبي حية أبا شبيل الأحمسي، (قال) (٢) مدرك ⦗٤١⦘ بن عوف: ذاك واللَّه (خالي) (٣) يا أمير المؤمنين يزعم الناس أنه ألقى بيديه إلى التهلكة، فقال عمر: كلذب أولئك ولكنه من الذين اشتروا الآخرة بالدنيا (٤). - قال إسماعيل: وكان أصيب وهو صائم فاحتمل وبه رمق فأبى أن يشرب حتى مات (٥).حضرت مدرک بن عوف احمسی کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر کے پاس تھا کہ ان کے پاس حضرت نعمان بن مقرن کا قاصد آیا۔ حضرت عمر نے اس سے لوگوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے نہاوند کی جنگ میں شہید ہونے والے مجاہدین کا تذکرہ کیا۔ اور بتایا کہ فلاں بن فلاں شہید ہوگئے اور کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے۔ حضرت عمر نے فرمایا لیکن اللہ انہیں جانتا ہے۔ اس جنگ کے بعض عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک آدمی بہت بہادری سے لڑا جس کا نام عوف بن ابی حیہ ابو شبیل احمسی ہے۔ یہ سن کر مدرک بن عوف نے کہا کہ خدا کی قسم ! اے امیر المومنین وہ میرے ماموں ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے بدلے آخرت کو خرید لیا۔ اسماعیل فرماتے ہیں کہ جب وہ زخمی ہوئے تو روزہ کی حالت میں تھے۔ ان میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ انہیں پانی پیش کیا گیا لیکن انہوں نے پینے سے انکار کردیا اور اسی حال میں انتقال کرگئے۔