حدیث نمبر: 36027
٣٦٠٢٧ - حدثنا حميد (عن) (١) (حسن) (٢) عن مطرف عن بعض أصحابه قال: اشترى طلحة بن (عبيد اللَّه) (٣) أرضًا من (النشاستج) (٤) (نشاستج) (٥) بني طلحة، هذا الذي عند (السيلحين) (٦) فأتى عمر فذحص ذلك له فقال: إني اشتريت أرضا معجبة، فقال (٧) عمر: ممن اشتريتها؟ أمن أهل الكوفة؟ قال: اشتريتها من أهل القادسية، قال طلحة: وكيف (أشتريها) (٨) من أهل القادسية كلهم؟ قال: إنك لم تصنع شيئًا، إنما هي فيء (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مطرف نقل کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے کوفہ میں سیلحین سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا۔ پھر وہ حضرت عمر کے پاس آئے اور ان سے اس کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ میں نے ایک عمدہ اور خوبصورت زمین خریدی ہے۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ تم نے کس سے خریدی ہے ؟ کوفہ والوں سے ؟ کیا تم نے قادسیہ والوں سے خریدی ہے ؟ حضرت طلحہ نے کہا کہ میں نے تمام قادسیہ والوں سے خریدی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم نے کچھ نہیں کیا یہ تو مال غنیمت ہے۔

حواشی
(١) في [جـ، ط]: (بن).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (حسين).
(٣) في [أ، ب]: (عبد اللَّه).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (نساتجح).
(٥) سقط من: [أ، ب]، وفي [جـ]: بياض.
(٦) في [أ، ب، جـ]: (السلحين).
(٧) في [هـ]: زيادة (له).
(٨) في [أ، ب]: (اشتريتها).
(٩) مجهول؛ لإبهام بعض رواته.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 36027
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36027، ترقيم محمد عوامة 34456)