٣٦٠٠٣ - حدثنا عفان قال: ثنا أبو (عوانة) (١) قال: ثنا حصين عن أبي وائل قال: جاء سعد بن أبي وقاص (حتى) (٢) نزل القادسية ومعه الناس، قال: فما أدري لعلنا أن لا نزيد على سبعة آلاف أو ثمانية آلاف بين ذلك، والمشركون (ستون) (٣) ألفًا أو نحو ذلك، معهم الفيول. قال: فلما نزلوا قالوا لنا: ارجعوا وإنا لا نرى لكم عددًا، ولا نرى لكم قوة ولا سلاحًا، فارجعوا، قال: قلنا: ما نحن براجعين؟ قال: وجعلوا يضحكون بنبلنا ويقولون: (دوك) (٤) -يشبهونها بالمغازل. قال: فلما (أبينا) (٥) عليهم قالوا: ابعثوا إلينا رجلا عاقلا يخبرنا بالذي جاء ⦗٢١⦘ بكم من بلادكم، فإنا لا نرى لكم عددا ولا عدة، (قال) (٦): فقال المغيرة بن شعبة: أنا، قال: فعبر إليهم. قال: فجلس مع رستم على السرير، قال: (فنخر) (٧) ونخروا (حين جلس معه) (٨) على السرير، قال: قال المغيرة: ما زادني (٩) مجلسي هذا ولا نقص صاحبكم، قال: فقال: أخبروني ما جاء بكم من بلادكم، فإني لا أرى لكم عددا ولا عدة، قال: فقال: كنا قومًا في (شقاء) (١٠) وضلالة فبعث اللَّه فينا (نبيا) (١١) فهدانا اللَّه على يديه ورزقنا على يديه، فكان فيما رزقنا حبة زعموا أنها تنبت (بهذه) (١٢) الأرض، فلما أكلنا منها وأطعمنا منها أهلينا قالوا: لا خير لنا حتى (تنزلوا) (١٣) هذه البلاد فنأكل هذه الحبة، قال: فقال رستم: إذا نقتلكم، قال: فإن قتلتمونا دخلنا الجنة، وإن قتلناكم دخلتم النار، وإلا أعطيتم الجزية، قال: فلما قال: أعطيتم الجزية قال: صاحوا ونخروا وقالوا: لا صلح بيننا وبينكم، (قال) (١٤): (فقال) (١٥) المغيرة: (أتعبرون) (١٦) إلينا أو (نعبر) (١٧) ⦗٢٢⦘ إليكم، قال: فقال رستم: بل (نعبر) (١٨) إليكم (١٩). (قال) (٢٠): فاستأخر منه المسلمون حتى عبر منهم (من عبر) (٢١) قال: فحمل عليهم المسلمون فقتلوهم وهزموهم (٢٢).حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص اپنا لشکر لے کر قادسیہ پہنچے۔ میرے خیال میں ہم لوگ سات یا آٹھ ہزار سے زائد نہیں تھے۔ جبکہ مشرک دشمن ساٹھ ہزار سے زائد تھے۔ ان کے پاس ہاتھی بھی تھے۔ جب وہ میدان میں اترے تو انہوں نے ہم سے کہا کہ واپس چلے جاؤ، نہ تمہارے پاس تعداد ہے، نہ قوت ہے اور نہ ہی اسلحہ۔ واپس چلے جاؤ۔ ہم نے کہا کہ ہم واپس نہیں جائیں گے۔ وہ ہمارے تیروں کو دیکھ کر بھی ہنستے تھے اور انہیں چرخے سے تشبیہ دیتے تھے۔ جب ہم نے ان کی بات ماننے اور واپس جانے سے انکار کردیا تو انہوں نے کہا کہ کسی سمجھدار آدمی کو ہمارے پاس بھیجو جو تمہاری آمد کے مقصد کو ہمارے لئے واضح کردے کیونکہ ہم تو نہ تم میں کوئی تعداد دیکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی قوت ! (٢) اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کہا کہ میں ان کے پاس جاتا ہوں۔ حضرت مغیرہ ان کے پاس گئے اور جاکر رستم کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھ گئے۔ یہ بات رستم کو اور اس کے ساتھیوں کو بہت ناگوار محسوس ہوئی۔ حضرت مغیرہ نے کہا کہ میرے یہاں بیٹھنے سے نہ تو میری عزت میں اضافہ ہوا ہے اور نہ تمہارے بادشاہ کی شان میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ رستم نے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ تم اپنے شہر سے یہاں کیوں آئے ہو کیونکہ میں تم میں نہ کوئی تعداد دیکھتا ہوں اور نہ ہی قوت ؟ اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم ایک ایسی قوم تھے جو بدبختی اور گمراہی کا شکارتھی۔ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک نبی کو بھیجا جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وجہ سے ہمیں روزی بھی عطا کی۔ جو روزی ان کی وجہ سے ہمیں ملی اس میں ایک ایسا غلہ تھا جس کے بارے میں لوگوں کو خیال ہے کہ وہ اس سرزمین میں پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم نے اسے کھایا اور اپنے گھر والوں کو کھلایا تو لوگوں نے کہا کہ ہمارے لئے اس وقت تک کوئی بھلائی نہیں جب تک ہم اس سرزمین میں جاکر اس غلے کونہ کھالیں۔ (٣) رستم نے کہا کہ پھر ہم تمہیں قتل کریں گے۔ حضرت مغیرہ نے کہا کہ اگر تم ہمیں قتل کرو گے تو ہم جنت میں داخل ہوں گے اور اگر ہم نے تمہیں قتل کیا تو تم جہنم میں جاؤ گے۔ لڑائی نہ ہونے کی صورت میں تمہیں جزیہ دینا ہوگا۔ جب حضرت مغیرہ نے کہا کہ تمہیں جزیہ دینا ہوگا تو وہ لوگ چیخنے لگے اور شدید غصے کا اظہار کرنے لگے۔ اور کہا کہ تمہاری اور ہماری صلح نہیں ہوگی۔ پھر حضرت مغیرہ نے فرمایا کہ تم ہماری طرف پیش قدمی کرتے ہو یا ہم تمہاری طرف بڑھیں ؟ رستم نے کہا کہ ہم تمہاری طرف آتے ہیں۔ پس مسلمان پیچھے ہوئے اور ان میں سے جس نے آگے بڑھنا تھا آگے بڑھا اور مسلمانوں نے ان پر حملہ کیا، انہیں قتل کیا اور انہیں شکست دے دی۔ راوی حضرت حصین فرماتے ہیں کہ ان کے بادشاہ رستم کا تعلق آذربائیجان سے تھا۔ (٤) حضرت حصین فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ایک بزرگ عبید بن جحش کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہم آدمیوں کی پشتوں پر چل رہے تھے اور آدمیوں کی پشتوں پر خندق عبورکر رہے تھے۔ انہیں کسی ہتھیارنے چھوا تک نہیں تھا، انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا۔ ہمیں ایک شیشی میں کچھ کافورملی، ہم نے سمجھا کہ یہ نمک ہے۔ چناچہ ہم نے گوشت پکایا اور اس پرا سے چھڑکا لیکن ہمیں کچھ ذائقہ محسوس نہ ہوا۔ ہمارے پاس سے ایک قمیص میں ملبوس ایک عیسائی راہب گزرا اور اس نے کہا کہ اے عرب کے لوگو ! اپنا کھانا خراب نہ کرو۔ اس سرزمین کے نمک میں کوئی خیر نہیں۔ کیا میں تمہیں اسکے بدلے یہ قمیص دے دوں۔ چناچہ نے ہم نے وہ شیشی ایک قمیص کے بدلے اسے دے دی اور وہ قمیص اپنے ایک ساتھی کو دی اور وہ اس نے پہن لی۔ ہم اسے گھمانے لگے اور خوش ہونے لگے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس قمیص کی قیمت دودرہم ہے۔ (٥) عبید بن جحش نامی بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے آدمی کو دیکھا جس نے دو کنگن پہن رکھے تھے، اسکا ہتھیار ایک قبر میں تھا۔ میں نے اسے باہر نکلنے کو کہا وہ باہر نکلا، نہ اس نے ہم سے بات کی اور نہ ہم نے اس سے بات کی اور ہم نے اسے قتل کردیا۔ پھر ہم نے انہیں شکست دے دی اور وہ فرات چلے گئے۔ ہم نے انہیں تلاش کیا اور شکست خوردہ ہو کر سوراء تک چلے گئے۔ پھر ہم نے انہیں تلاش کیا، انہیں شکست دی تو وہ صراۃ چلے گئے، پھر ہم نے انہیں تلاش کیا، انہیں شکست دی تو وہ مدائن چلے گئے۔ پھر ہم کوثیٰ نامی جگہ ٹھہرے، وہاں مشرکین کے مسلح جنگجو تھے۔ مسلمانوں کے گھڑ سواروں نے ان سے جنگ کی تو وہ شکست کھا کرمدائن چلے گئے۔ (٦) پھر مسلمان چلے اور دریائے دجلہ کے کنارے جاکر پڑاؤ ڈالا۔ پھر مسلمانوں کی ایک جماعت نے کلواذی یا اس کی نچلی جانب سے مدائن کو عبور کیا اور کافروں کا محاصرہ کرلیا۔ یہاں تک کہ ان کے پاس کھانے کے لئے ان کے کتوں اور بلیوں کے سوا کچھ نہ بچا۔ پھر ایک رات کے بعد وہ جلولاء آئے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ لوگوں کو لے کر چلے اور حضرت ہاشم بن عتبہ لوگوں کے آگے تھے۔ اس کے بعد