مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
قدوم خالد بن الوليد الحيرة وصنيعه باب: سیدنا خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کا حیرہ کو فتح کرنا
٣٥٩٨٥ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا بن أبي زائدة عن خالد بن سلمة القرشي عن عامر الشعبي قال: كتب خالد بن الوليد (زمن الحيرة) (١) إلى مرازبة فارس: ﷽ من خالد بن الوليد إلى مرازية فارس، سلام على من اتبع الهدى، أما بعد فإني أحمد إليكم اللَّه الذي لا إله إلا هو، الحمد للَّه الذي (فض) (٢) خدمتكم وفرق جمعكم وخالف بين كلمتكم، فإذا جاءكم كتابي هذا فاعتقدوا مني الذمة، وأجيبوا إلى الجزية، فإن لم تفعلوا أتيتكم بقوم يحبون الموت (حبكم) (٣) الحياة (٤).حضرت عامر شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فارس کے سرداروں کے نام حیرہ سے ایک خط لکھا جس میں تحریر تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم : خالد بن ولید کی طرف سے فارس کے سرداروں کے نام۔ ہدایت کا اتباع کرنے والوں پر سلامتی نازل ہو۔ میں اس اللہ کی حمد بیان کرتاہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہاری قوتوں کو منتشر کردیا اور تمہارے دلوں کو جدا کردیا اور تمہاری قوت کو کمزور کردیا اور تمہارے مالوں کو چھین لیا۔ جب میرا یہ خط تمہارے پاس آئے تو تم میرے پاس جزیہ بھیجو، ہمارے پاس ذمی بن کر رہنا قبول کرلو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں تمہاری طرف ایک ایسی قوم کو بھیجوں گا جو موت کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔