مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
قدوم خالد بن الوليد الحيرة وصنيعه باب: سیدنا خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کا حیرہ کو فتح کرنا
٣٥٩٨٤ - حدثنا أبو أسامة قال: أخبرنا مجالد قال: أخبرنا عامر قال: كتب خالد إلى مرازبة فارس وهو بالحيرة ودفعه إلى (بني) (١) بُقَيَلة، قال عامر: وأنا قرأته عند (بني) (٢) بقيلة: بسم اللَّه الرحمن الرحيم من خالد بن الوليد إلى مرازبة فارس، ⦗١١⦘ سلام على من اتبع الهدى، فإني أحمد إليكم اللَّه الذي لا إله إلا هو، أما بعد ((أ) (٣) حمد اللَّه) (٤) الذي (فض) (٥) خدمتكم وفرق كلمتكم ووهن بأسكم وسلب ملككم، فإذا جاءكم كتابي هذا فابعثوا إلي بالرهن، واعتقدوا مني الذمة، وأجيبوا إلى الجزية، فإن لم تفعلوا فواللَّه الذي لا إله إلا هو لأسيرن إليكم بقوم يحبون الموت كحبكم الحياة، والسلام على من اتبع الهدى (٦).حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید حیرہ میں تھے۔ انہوں نے وہاں سے فارس کے سرداروں کے نام خط لکھا، وہ خط انہوں نے بنو بقیلہ کو دیا اور میں نے ان کے پاس پڑھا تھا۔ اس خط میں تحریر تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم : خالد بن ولید کی طرف سے فارس کے سرداروں کے نام۔ ہدایت کا اتباع کرنے والوں پر سلامتی نازل ہو۔ میں اس اللہ کی حمد بیان کرتاہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہاری قوتوں کو منتشر کردیا اور تمہارے دلوں کو جدا کردیا اور تمہاری قوت کو کمزور کردیا اور تمہارے مالوں کو چھین لیا۔ جب میرا یہ خط تمہارے پاس آئے تو تم میرے پاس جزیہ بھیجو، ہمارے پاس ذمی بن کر رہنا قبول کرلو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں تمہاری طرف ایک ایسی قوم کو بھیجوں گا جو موت کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔ اور ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر سلامتی ہو۔