٣٥٩٨١ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: ثنا ثمامة بن عبد اللَّه عن أنس أن خالد بن الوليد (وجه) (١) الناس يوم اليمامة (فأتوا) (٢) (على نهر) (٣) ⦗٩⦘ فجعلوا أسافل (أقبيتهم) (٤) في حجزهم، ثم قطعوا إليهم فتراموا فولى المسلمون مدبرين، فنكس خالد ساعة ثم رفع رأسه وأنا بينه وبين البراء، وكان خالد إذا (حزبه) (٥) أمر نظر إلى السماء ساعة ثم رفع رأسه إلى السماء، ثم (يفري) (٦) له رأيه، (فأخذ) (٧) البراء (أفكل) (٨) (فجعلت) (٩) ألحده إلى الأرض فقال: يا ابن أخي إني (لا أفطر) (١٠). ثم قال: يا براء قم، فقال البراء: الآن؟ قال: نعم الآن، فركب البراء فرسا له أنثى، فحمد اللَّه و (أثنى) (١١) عليه ثم قال: (أما) (١٢) بعد يا أيها الناس إنه ما إلى المدينة سبيل، إنما هي الجنة فحضهم ساعة ثم (مصع) (١٣) فرسه (مصعات) (١٤)، فكأني أراها (تمصع بذنبها) (١٥)، ثم كبس (١٦) وكبس الناس (١٧).حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دشمنوں کی طرف روانہ فرمایا۔ وہ دریا کے کنارے پر پہنچے، دشمن نے ایک چال کے ذریعے مسلمانوں پر حملہ کیا تو مسلمان تتر بتر ہوگئے اور الٹے پاؤں واپس لوٹ آئے۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر سر جھکایا اور پھر سر اٹھایا۔ میں اس وقت ان کے اور حضرت براء کے درمیان کھڑا تھا۔ حضرت خالد کا معمول تھا کہ جب انہیں کوئی اہم کام پیش آتا تھا تو وہ کچھ دیر آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تھے اور پھر آسمان کی طرف سر اٹھاتے تھے۔ پھر وہ اپنی رائے کا اظہار فرماتے تھے۔ اتنے میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ پر کپکپی طاری ہوئی تو میں نے انہیں زمین کے ساتھ ملا دیا وہ کہنے لگے اے میرے بھائی ! میں روزہ توڑنا چاہتا ہوں۔ پھر حضرت خالد نے فرمایا کہ اے براء ! اٹھو۔ انہوں نے کہا اس وقت ؟ حضرت خالد نے فرمایا کہ ہاں اسی وقت۔ (٢) پھر حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی۔ پھر فرمایا اے لوگو ! مدینہ جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے، راستہ ہے تو جنت کا ہے۔ پھر آپ نے کچھ دیر انہیں ترغیب دی۔ پھر اپنے گھوڑے کو تھپکیاں دیں اور چل پڑے اور لوگ بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ (٣) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمامہ والوں کے شہر میں ایک ٹیلہ تھا۔ یمامہ کے سربراہ نے اس پر اپنے پاؤں رکھے اور وہ ایک موٹا اور لمبا آدمی تھا۔ وہ رجز پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ میں یمامہ کا سربراہ ہوں، میں یہاں کے لوگوں کا ٹھکانہ ہوں اور میں، میں ہوں۔ (٤) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک پہلوان آدمی تھا۔ اس نے حضرت براء رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تو حضرت براء نے زرہ کے ذریعے اپنا بچاؤ کیا پھر حضرت براء نے اس کی پنڈلی پر وار کیا اور اسے مار ڈالا۔ یمامہ کے حاکم کے پاس ایک چوڑی ذرہ تھی، حضرت براء نے اپنی تلوار رکھی اور اس کی ذرہ لے کر اس سے مارا اور وہ ٹوٹ گیا پھر آپ نے فرمایا کہ اللہ اس چیز کو رسوا کرے جو تیرے اور میرے درمیان ہے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار لے لی۔