٣٥٩٧٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن ثمامة بن أنس عن أنس قال: كنت بين يدي خالد بن الوليد وبين البراء يوم اليمامة. قال: فبعث خالد الخيل فجاؤا منهزمين، [وجعل البراء يرعد فجعلت ألحده إلى الأرض وهو يقول: (إني أجدني) (١) أفطر. قال: ثم بعث خالد الخيل فجاؤا منهزمين] (٢). ⦗٧⦘ قال: فنظر خالد إلى السماء ثم (بلد) (٣) إلى الأرض، وكان يصنع ذلك إذا أراد الأمر، ثم قال: يا براء، -وحدّ في نَفَسِه (٤) -، قال: فقال: الآن؟ قال: فقال: نعم الآن. قال: فركب البراء فرسه فجعل يضربها بالسوط، وكأني أنظر إليها (تمصع بذنبها) (٥) فحمد اللَّه وأثنى عليه وقال: يا أهل المدينة إنه لا مدينة لكم وإنما هو اللَّه وحده والجنة، ثم حمل وحمل الناس معه، فانهزم أهل اليمامة حتى أتى حصنهم (فلقيه) (٦) محكم اليمامة، (فقال: يا براء) (٧) فضربه بالسيف فاتقاه البراء (بالحجفة) (٨) فأصاب (الحجفة) (٩)، ثم ضربه البراء فصرعه فأخذ سيف محكم اليمامة فضربه به حتى انقطع، فقال: قبح اللَّه ما بقي منك، ورمى (به) (١٠) وعاد إلى سيفه (١١).حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید اور حضرت براء کے درمیان تھا۔ حضرت خالد نے ایک لشکر کو لڑائی کے لئے روانہ فرمایا تو وہ شکست کھاکر واپس آگیا۔ اس کے بعد حضرت براء پر لرزہ طاری ہوگیا اور میں نے انہیں سکون دینے کے لئے زمین کے ساتھ ملا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا۔ پھر حضرت خالد نے ایک اور جماعت کو لڑائی کے لئے بھیجا وہ بھی شکست کھاکر واپس آگئی، حضرت خالد نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور پھر زمین کی طرف دیر تک دیکھتے رہے۔ حضرت خالد جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یونہی کیا کرتے تھے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ اے براء ! تم حملہ کرو۔ حضرت براء نے پوچھا ابھی ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ابھی۔ چناچہ حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے کوڑے مارنے لگے۔ وہ منظر گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ گھوڑا اپنی دم کو ہلا رہا تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا کہ اے شہر والو ! تمہارا کوئی شہر نہیں ہے۔ وہ اللہ یکتا ہے اور اس کے پاس تمہارے لئے جنت ہے۔ پھر حضرت براء نے حملہ کیا اور ان کے ساتھ لوگوں نے بھی حملہ کیا اور اہل یمامہ کو شکست ہوگئی۔ پھر حضرت براء یمامہ والوں کے قلعے میں گئے اور یمامہ کے محکم سے سامنا ہوا۔ اس نے حضرت براء پر حملہ کیا۔ حضرت براء نے اس کے حملے کو ناکام بنا کر اس پر حملہ کیا اور اسے مار گرایا۔ پھر آپ نے یمامہ کے محکم کی تلوار پکڑی اور اس کا سر قلم کردیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تجھ میں سے جو باقی رہا اللہ اسے نامراد کرے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار کو پھینک دیا اور اپنی تلوار کو اٹھا لیا۔