حدیث نمبر: 35951
٣٥٩٥١ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن عبد الملك بن عمير قال: سمعت عطية القرظي يقول: عرضنا على رسول اللَّه ﷺ يوم قريظة فكان من أنبت قتل، ومن لم ينبت لم يقتل، فكنت ممن لم ينبت فلم يقتلني (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ قریظہ کے دن ہمیں رسول اکرم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بال آچکے تھے اس کو قتل کردیا گیا اور جس کے بال نہ آئے اس کو قتل نہ کیا گیا، میرے بھی چونکہ بال نہ آئے تھے اس لیے مجھے بھی قتل نہ کیا گیا۔

حواشی
(١) في [جـ]: (نا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35951
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٧٧٦)، وأبو داود (٤٤٠٥)، والترمذي (١٥٨٤)، وابن ماجه (٢٥٤١)، وابن حبان (٤٧٨١)، والحاكم ٢/ ١٢٣، وتقدم في ١٢/ ٣٨٤ برقم [٣٥٣٣٦].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35951، ترقيم محمد عوامة 34387)