مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الغزو بالغلمان ومن لم يجزهم (لحكم) فيهم؟ باب: بچوں کو جہاد میں ساتھ لے جانے کا بیان
٣٥٩٥٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال: عرضني رسول اللَّه ﷺ في القتال (يوم أحد) (١) وأنا ابن أربع عشر سنة، فاستصغرني فردني، ثم عرضني يوم الخندق وأنا ابن خمس عشرة فأجازني (٢). - قال نافع: حدثت ذلك عمر بن عبد العزيز - (وهو خليفة) (٣) - فقال: إن هذا (لحد) (٤) بين الصغير والكبير، فكتب إلى عماله أن من بلغ خمس عشرة فافرضوا له في المقاتلة، ومن كان دون ذلك فافرضوا له في (العيال) (٥).حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ جنگ احد کے دن مجھے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں جہاد میں شریک ہونے کیلئے پیش کیا گیا اس وقت میری چودہ سال عمر تھی مجھے چھوٹا سمجھا گیا اور واپس کردیا گیا پھر غزوہ خندق والے دن مجھے پیش کیا گیا اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی تو مجھے اجازت دے دی گئی۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ تھے تو میں نے یہ روایت ان سے بیان کی، انہوں نے فرمایا : یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان بیشک ایک حد ہے، پھر انہوں نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ : جس کی عمر پندرہ سال ہو اس کو جہاد کیلئے اور جس کی عمر اس سے کم ہو اس کو اھل و عیال کیلئے مقرر کردو۔