حدیث نمبر: 35902
٣٥٩٠٢ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: ثنا رافع بن سلمة الأشجعي قال: حدثني (حشرج) (٢) (بن) (٣) زياد الأشجعي عن جدته أم أبيه أنها غزت مع رسول اللَّه ﷺ خيبر سادسة ست نسوة فبلغ رسول اللَّه ﷺ فبعث إلينا فقال: "بأمر من خرجتن"، ورأينا فيه الغضب، فقلنا: يا رسول اللَّه خرجنا ومعنا دواء نداوي به، و (نناول) (٤) السهام، ونسقي السويق ونغزل الشعر نعين به في سبيل اللَّه، فقال لنا: "أقمن"، فلما فتح اللَّه عليه خيبر قسم لنا كما قسم للرجال (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حشرج بن زیاد رحمہ اللہ اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ چھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوئیں، رسول اکرم ﷺ کو خبر ملی تو آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : کس کام کی وجہ سے تم جنگ میں نکلی ہو ؟ ہم نے آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار دیکھے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم جنگ میں شریک ہوئیں ہیں ہمارے پاس دوائی ہے جس سے زخمیوں کو دواء دیں گے اور تیر پکڑائیں گے اور ستو ملا پانی پلائیں گے اور بالو کی رسی بنائیں گے جس سے اللہ کے راستہ میں مدد حاصل کی جائے گی حضور ﷺ نے ہم سے فرمایا : ٹھہری رہو پھر جب خیبر فتح ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھی اسی طرح حصہ دیا جس طرح مردوں کو دیا۔

حواشی
(١) في [أ]: (الخباب).
(٢) في [أ]: (حثرج).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (عن).
(٤) في [أ، ب]: (نتناول).
(٥) مجهول؛ لجهالة حشرج بن زياد، أخرجه أحمد (٢٢٣٣٢)، وأبو داود (٢٧٢٩)، والنسائي في الكبرى (٨٨٧٩)، والبيهقي ٦/ ٣٣٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35902
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35902، ترقيم محمد عوامة 34339)