٣٥٨٩٨ - حدثنا معاوية بن هشام قال: ثنا سفيان عن حميد الأعرج عن محمد ابن إبراهيم التيمي عن أبي سلمة عن عبد اللَّه بن رواحة قال: كنت في غزاة، فاستأذنت فتعجلت فانتهيت إلى الباب، فإذا المصباح يتأجج، وإذا أنا بشيء أبيض (نائم) (١)، فاخترطت سيفي ثم حركتها، فقالت: إليك إليك فلانة، كانت عندي ⦗٥٢٣⦘ مشطتني، فأتيت النبي ﷺ فأخبرته فنهى أن يطرق الرجل أهله ليلًا (٢).حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک غزوہ میں شریک تھا میں نے واپسی کی اجازت طلب کی اور جلدی کی اور جلدی واپس آ کر گھر کے دروازے پر پہنچ گیا، گھر میں چراغ جل رہا تھا اور میں نے ایک سفید چیز سوئی ہوئی دیکھی میں نے تلوار نکال لی پھر اس کو حرکت دی تو میری اہلیہ نے کہا : تو دور ہوجا تو دور ہوجا فلاں میرے پاس ہے اور میرے بالوں میں کنگھی کر رہی ہے، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس واقعہ کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا کہ آدمی رات کو سفر سے واپس گھر آئے۔