مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
الرجل يجد الشيء في العدو وليس له (ثم) ثمن باب: کوئی شخص دشمن کی سر زمین میں ایسی چیز پائے جس کی وہاں کوئی قیمت نہ ہو
حدیث نمبر: 35849
٣٥٨٤٩ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم عن خالد ابن أبي عمران قال: سمعت القاسم وسالما يقولان: ما قطعتم من شجر أرض العدو فعملتَ وتدًا أو هراوة أو مرزبة أو لوحًا أو قدحًا أو بابًا فلا بأس به، وما (وجد له) (١) من ذلك معمولا فأده إلى المغنم.مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور حضرت سالم رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ دشمن کی زمین کے درخت کاٹ کر اگر اس سے آپ نے کھونٹی، لاٹھی، ہتھوڑا، تختی، پیالہ یا دروازہ بنا لیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اور جس چیز کی وہاں قیمت ہو (استعمال ہوتی ہو) اس کو مال غنیمت میں دے دو ۔
حواشی
(١) في [هـ]: (وجدته).