٣٥٨٠٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سعيد بن (زيد) (١) عن (٢) الزبير ابن خريت عن أبي لبيد قال: أرسلت الخيل والحكم بن أيوب على البصرة قال: فخرجنا ننظر إليها، فقلنا: لو ملنا إلى أنس بن مالك، فملنا إليه وهو في قصره بالزاوية، فقلنا له: يا أبا حمزة أكانوا يتراهنون على عهد رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم، واللَّه لراهن -يعني رسول اللَّه ﷺ على فرس يقال له سبحة، فجاءت سابقة، فهش لذلك (٣).حضرت ابو لبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس گھوڑا بھیجا گیا درآنحالیکہ حضرت حکم بن ایوب بصرہ پر حاکم تھے، ہم باہر نکلے تاکہ اس کو دیکھ سکیں، ہم نے کہا کہ اگر ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک کے پاس جاتے تو اچھا ہوتا پھر آپ کی طر ف گئے وہ محل کے کونے میں تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اے ابو حمزہ رضی اللہ عنہ ! کیا صحابہ کرام j عہد نبوی ﷺ میں گھوڑوں کی دوڑ میں مسابقہ کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں خدا کی قسم نبی اکرم ﷺ اپنے گھوڑے پر ریس لگایا کرتے تھے جس کا نام سبحہ تھا پس ایک مرتبہ وہ سبقت لے گیا پھر اس کیلئے پتے توڑے گئے۔