حدیث نمبر: 35802
٣٥٨٠٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن سماك عن عبد اللَّه بن حصين العجلي أن حذيفة سبق الناس على فرس له أشهب، قال: فدخلت عليه وهو ⦗٤٩٧⦘ جالس على قدميه، ما (تمس إليتاه) (١) الأرض فرحًا به، يقطر عرقًا، وفرسه على معلفه، وهو جالس ينظر إليه والناس يدخلون عليه يهنئونه (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا اشھب نامی گھوڑا تھا جس پر سوار ہو کر وہ لوگوں سے گھوڑ دوڑ میں سبقت لے گئے تھے، راوی کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس حاضر ہوا تو وہ اپنے قدموں پر بیٹھے تھے ان کی پشت زمین پر نہیں لگ رہی تھی خوشی کی وجہ سے پسینے میں شرابور تھے اور پسینہ ٹپک رہا تھا اور ان کا گھوڑا چراگاہ میں بندھا ہوا تھا اور وہ اس کی طرف دیکھ رہے تھے اور لوگ ان کے پاس آ کر ان کو مبارک باد دے رہے تھے۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (يمس)، وفي [جـ، ط]: (تمس).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن حصين هكذا سماه إسرائيل، وسماه غيره عبد اللَّه بن عميرة بن حصن، وهو أبوسلامة في الأثر بعده، وأخرجه عبد الرزاق (٩٦٩٧).