٣٥٧٧٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أبي (حيان) (١) عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال: قام فينا رسول اللَّه ﷺ خطيبًا فذكر الغلول فعظمه وعظم أمره ثم قال: " (٢) أيها الناس لا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته بعير له رغاء يقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول: لا أملك لك (شيئًا، قد بلغتك، ولا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته بقرة لها خوار يقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول لا أملك لك) (٣) شيئا، قد بلغتك، ولا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته فرس له حَمْحَمَةٌ يقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول لا أملك لك شيئًا، قد بلغتك، ولا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة وعلى رقبته صامت، يقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول: لا أملك لك شيئًا، قد بلغتك، ولا ألفين أحدكم يجيء يوم القيامة على رقبته نفس لها صياح، فيقول: يا رسول اللَّه أغثني، فأقول: لا أملك لك شيئًا قد بلغتك" (٤).حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کیلئے کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیانت کا ذکر فرمایا اور اس گناہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر ایک اونٹ ہو اور وہ اونٹ آواز نکال رہا ہو اور وہ کہے کہ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے تو میں اس کو کہوں میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں نے تجھے اپنا پیغام پہنچا دیا تھا، اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن میں گائے ہو اور اس کیلئے گائے کی آواز ہو اور وہ کہے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے، میں اس کو کہوں میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے پیغام پہنچا چکا تھا، اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر گھوڑے کی خیانت کا بوجھ ہو اور اس کی آواز اور وہ مجھ سے کہے کہ اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے میں کہوں کہ میں تیرے متعلق کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے اپنا پیغام پہنچا چکا تھا اور تم میں سے کوئی شخص میرے پاس قیامت کے دن اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر سونے یا چاندی کی خیانت کا بوجھ ہو اور وہ کہے اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے میں کہوں گا میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں، میں تجھے پپغام پہنچا چکا ہوں، اور تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں نہ آئے کہ اس کی گردن پر کسی انسان کی خیانت کا بوجھ ہو اور اس کیلئے اس کی آواز ہو وہ مجھ سے کہے اے اللہ کے رسول ! میری مدد کیجئے میں کہوں گا میں تیرے بارے میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں اپنا پیغام پہنچا چکا ہوں۔