مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
الرجل يحمل على الشيء في سبيل الله متى يطيب لصاحبه؟ باب: کوئی شخص اﷲ کے راستہ میں کسی چیز پر سوار ہو تو وہ جانور کب اس کیلئے حلال ہو گا
٣٥٧٤٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن عمرو مولى غفرة قال: أردت الغزو (فتزوجت) (١) بما في يدي، وبعث إلي رجل معونة بستين دينارا في سبيل اللَّه، قال: فأتيت سعيد بن المسيب فذكرت ذلك له وقلت: أدع لأهلي بقدر ما أنفقت، قال: لا، ولكن إذا بلغت رأس المغزى فهو كهيئة مالك، ثم أتيت القاسم بن محمد فذكرت ذلك له، فقال لي مثل قول سعيد بن المسيب.حضرت عمر جو غفرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں جہاد پر جانے لگا تو جو کچھ میرے پاس تھا اس کے ساتھ سامان تیار کرلیا، ایک شخص نے جہاد کیلئے مجھے ساٹھ دینار ارسال کئے، فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن المسیب کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ جتنا میں گھر والوں پر خرچہ کرتا تھا اس کی بقدر اس میں سے گھر والوں کیلئے چھوڑ جاؤں ؟ آپ نے فرمایا نہیں لیکن جب میدان جہاد پر پہنچ جاؤ تو پھر یہ تمہارے اپنے مال کی طرح ہے، پھر میں قاسم بن محمد کے پاس آیا اور ان سے یہ معاملہ ذکر کیا اور اس کے متعلق دریافت کیا، انہوں نے بھی حضرت سعید بن المسیب کی طرح ہی مجھ سے فرمایا۔