حدیث نمبر: 35708
٣٥٧٠٨ - حدثنا وكيع قال: ثنا مسعر عن معن بن عبد الرحمن قال: غزا رجل نحو الشام يقال له شيبان، وله أب شيخ كبير، فقال أبوه في ذلك شعرا: أشيبان ما يدريك أن رب ليلة … (غبقتك) (١) فيها و (الغبوق) (٢) حبيب أأمهلتني حتى إذا ما تركتني … أرى الشخص كالشخصين وهو قريب أشيبان إن بات الجيوش تحدهم … يقاسون أياما بهن خطوب قال: فبلغ ذلك عمر فرده (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معن بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ ایک شخص جس کو شیبان کہا جاتا تھا ملک شام کی طرف جہاد میں چلا گیا، اس کا والد بوڑھا تھا، اس کے والد نے اس کی یاد میں اشعار پڑھے ! ” اے شیبان ! تجھے نہیں معلوم کہ تیرے بعد مجھ پر کتنی راتیں ایسی گزری ہیں جن میں میں نے تجھے یاد کیا اور تیری یاد میرے لیے محبوب ہے۔ جب سے تو مجھے چھوڑ کر گیا ہے مجھے قریب کھڑا ایک شخص دو شخصوں کی طرح لگتا ہے۔ اے شیبان تو ان لشکروں کے ساتھ ہے جو رات اور دن اس حال میں کرتے ہیں کہ وہ مشقت کا شکار ہوتے ہیں۔ “ جب اس کے یہ اشعار حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہنچے تو انہوں نے اس کے یٹے کو واپس بلا لیا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عنقتك).
(٢) في [هـ]: (العنوق).
(٣) منقطع؛ معن بن عبد الرحمن لا يروي عن عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35708
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35708، ترقيم محمد عوامة 34149)