مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
(باب) من كره أن يتوضأ بفضل وضوئها باب: ان حضرات کا بیان جو عورت کے پس ماندہ سے وضو کرنے کو نا پسندیدہ خیال کرتے ہیں
حدیث نمبر: 357
٣٥٧ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن (سوادة) (١) بن عاصم قال: انتهيت إلى الحكم الغفاري وهو بالمربد، وهو ينهاهم عن فضل طهور المرأة، فقلت: ألا حبذا صفرة ذراعيها، ألا حبذا كذا؟ فأخذ شيئا فرماه به، وقال: لك ولأصحابك (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوادہ بن عاصم کہتے ہیں کہ میں نے مقام مربد میں حکم غفاری سے ملاقات کی۔ وہ لوگوں کو عورت کے پس ماندہ پانی سے منع کرتے تھے، میں نے ان سے کہا کہ ” عورت کے بازوؤں کی زردی کتنی اچھی ہوتی ہے ! “ انہوں نے ایک چیز کو پکڑ کر غصے سے پھینکا اور فرمایا ” تیرے لئے اور تیرے ساتھیوں کے لئے اچھی ہوگی “
حواشی
(١) في حاشية [خ]: (أبو حاجب).