٣٥٦٩٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن الزهري ومحمد ابن علي عن يزيد بن هرمز: أن نجدة كتب إلى ابن عباس يسأله عن سهم ⦗٤٧٠⦘ ذوي القربى لمن هو؟ فكتب: كتبت تسألني عن سهم ذوي القربى لمن هو؟ فهو لنا، قال: إن عمر ابن الخطاب دعانا إلى أن تنكح منه (أيمنا) (١)، (ونخدم) (٢) منه عائلنًا، ونقضي منه عن غارمنا، فأبينا ذلك إلا أن يسلمه لنا جميعا فأبى أن يفعل فتركناه عليه (٣).حضرت یزید بن ہرمز سے مروی ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لکھا اور ان سے دریافت کیا کہ ذوی القربیٰ کا حصہ کس کیلئے ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے تحریر فرمایا آپ نے مجھے لکھ کر دریافت کیا کہ ذوی القربیٰ کا حصہ کس کیلئے ہے ؟ وہ حصہ ہمارے لیے ہے، پھر فرمایا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس بات کی دعوت دی کہ ہم اس کے ساتھ اپنی بےنکاحی عورتوں کا نکاح کریں اور اس سے ہمارے خاندان کی خدمت کی جائے اور ہمارے قرض خواہوں کو ادائیگی کی جائے ہم نے اس سے انکار کردیا مگر یہ کہ وہ سب کا سب ہمیں ہی دیا جائے انہوں نے اس طرح کرنے سے انکار کردیا پس ہم نے ان کیلئے اس کو چھوڑ دیا۔