حدیث نمبر: 35693
٣٥٦٩٣ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا هاشم بن (بريد) (١) قال: حدثني حسين بن ميمون عن عبد اللَّه بن عبد اللَّه عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: سمعت عليًا يقول: قلت: يا رسول اللَّه إن رأيت أن (توليني) (٢) حقنا من الخمس في كتاب اللَّه، فاقسمه حياتك كي لا ينازعنيه أحد بعدك، قال: (نفعل) (٣) ذلك، قال: فولانيه رسول اللَّه ﷺ فقسمته حياة رسول اللَّه ﷺ، ثم ولانيه أبو بكر، فقسمته حياة أبي بكر، ثم ولانيه عمر، فقسمته حياة عمر، حتى كانت آخر سنة من (٤) سني عمر، فأتاه مال كثير فعزل حقنا، ثم أرسل إلي فقال: هذا حقكم فخذه فاقسمه حيث كنتَ تقسمه، فقلت: يا أمير المؤمنين، بنا عنه العام غنى وبالمسلمين إليه حاجة، فرده (عليه) (٥) تلك السنة، ثم لم يدعنا إليه أحد بعد عمر، حتى قمت مقامي هذا، فلقيت العباس بعد ما خرجت من عند عمر فقال: يا علي، لقد حرمتنا الغداة شيئا لا يُردّ علينا أبدا إلى يوم القيامة، وكان رجلًا (داهيا) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب اللہ کے خمس میں سے جو ہمارا حصہ ہے اس کا مجھے ولی بنادیں تاکہ میں آپ کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کر دوں، تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس طرح کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا ولی بنادیا۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کردیا، پھر حضرت ابوبکر صدیق نے مجھے ولی بنایا تو میں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کردیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے ولی بنایا تو میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں اس کو تقسیم کردیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا آخری سال آگیا، ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا انہوں نے ہمارا حق الگ کر کے میری طرف ارسال کردیا اور فرمایا یہ تمہارا حق ہے یہ لے لو اور جہاں تقسیم کرنا چاہو تقسیم کرلو میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ ہم اس سے مستغنی ہیں جب کہ مسلمانوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے، پس اس سال ان کو وہ واپس کردیا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کسی نے ہمیں اس کی طرف نہیں بلایا یہاں تک کہ میں اس مقام پر کھڑا ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکلنے کے بعد میری حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا : اے علی رضی اللہ عنہ آپ نے صبح ہمیں ایک چیز سے (حق سے) محروم کردیا اب قیامت تک ہمیں نہیں دیا جائے گا۔ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ عمدہ رائے والے شخص تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (يزيد).
(٢) في [أ، ب، جـ، هـ]: (تولينا).
(٣) في [هـ]: (ففعل).
(٤) في [أ، ب]: زيادة (آخر).
(٥) في [هـ]: (عليهم).
(٦) في [أ، ب]: (داهنًا).
(٧) مجهول؛ لجهالة حسين بن ميمون، أخرجه أحمد (٦٤٦)، وأبو داود (٢٩٨٤)، والحاكم ٢/ ١٢٨، والبيهقي ٦/ ٣٤٣، وأبو يعلى (٣٦٤)، والبزار (٦٢٦)، وابن زنجويه (١٢٤٥)، والعقيلي ١/ ٢٥٣، والمزي ٦/ ٤٩٠، وابن شبه (١٠٥٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35693
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35693، ترقيم محمد عوامة 34134)