مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
الرجل يدخل بأمان فيقتل باب: کوئی شخص امان لے کر آئے اور اس کو قتل کر دیا جائے
حدیث نمبر: 35666
٣٥٦٦٦ - حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن معمر عن زياد بن مسلم أن رجلًا من أهل (الهند) (١) (قدم) (٢) بأمانٍ (٣) (عدنَ) (٤) فقتله رجل من المسلمين بأخيه، فكتب في ذلك إلى عمر بن عبد العزيز، فكتب: أن لا تقتله، وخذ منه الدية، فابعث بها إلى ورثته، وأمر به فسجن.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن مسلم سے مروی ہے کہ اہل ہند میں سے ایک شخص امان لے کر عدن میں آیا، اس کو ایک مسلمان نے قتل کردیا، اس کے متعلق حضرت عمر بن عبدالعزیز کو لکھا گیا، آپ نے تحریر فرمایا : اس کو قتل مت کرو، اس سے دیت وصول کرو اور وہ دیت مقتول کے ورثاء کو بھیج دو ، اور اس قاتل کو قید کرنے کا حکم فرمایا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (خندف الهند).
(٢) في [ب]: (قوم).
(٣) في [هـ]: زيادة (إلى).
(٤) في [س]: (غدر).