٣٥٦٣٧ - حدثنا ريحان بن سعيد قال: حدثني مرزوق بن عمرو قال: حدثني أبو فرقد قال: كنا مع أبي موسى الأشعري يوم فتحنا سوق الأهواز، فسعى رجل من المشركين وسعيا رجلان من المسلمين خلفه، فبينما هو يسعى ويسعيان إذ قال له أحدهما: مترس، (فقام الرجل) (١) فأخذاه (فجاءا) (٢) به وأبو موسى يضرب أعناق ⦗٤٥٣⦘ الأسارى حتى انتهى (الأمر) (٣) إلى الرجل فقال أحدهما: إن هذا قد جعل له الأمان، فقال أبو موسى: وكيف جعل له الأمان؟ قال: إنه كان يسعى ذاهبًا في الأرض فقلت له: مترس فقام، فقال أبو موسى: وما مترس؟ قال: لا (تخاف) (٤)، قال: هذا أمان خليا سبيله، فخليا سبيل الرجل (٥).حضرت ابو فرقد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے سوق الاھواز کو فتح کیا تو میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، مشرکین میں سے ایک شخص بھاگا، مسلمانوں میں سے بھی دو اس کے پیچھے بھاگے، اس دوران کہ جب وہ بھاگ رہے تھے، ان میں سے ایک نے اس مشرک کو کہہ دیا، مترس (امان) وہ شخص یہ سن کر کھڑا ہوگیا، انہوں نے اس کو پکڑا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس اس حالت میں لے کر حاضر ہوئے کہ آپ قیدیوں کو قتل فرما رہے تھے، جب اس شخص کی باری آئی ان دو میں سے ایک نے کہا اس کیلئے امان ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا : اس کو امان کیسے ملی ؟ اس نے کہا کہ یہ بھاگ رہا تھا میں نے اس کو مترس کہا تو یہ کھڑا ہوگیا، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ مترس کا کیا مطلب ہے ؟ اس نے کہا : اس کا مطلب ہے مت ڈرو آپ نے فرمایا یہ امان ہے، اس کا راستہ چھوڑ دو ، پھر ہم نے اس کو چھوڑ دیا۔